Book Name:Saman-e-Bakhsish

تلاطم کیسا ہی کچھ ہے مگر اے ناخدائے من

اِشارا آپ فرما دیں تو بیڑا پار ہوجائے

جو ڈوبا چاہتا ہے وہ تو ہے ڈوبا ہوا بیڑا  ([1])

اشارا آپ کا پائے تو مولیٰ پار ہوجائے

تمہارے فیض سے لاٹھی مثالِ شمع روشن ہو

جو تم لکڑی کو چاہو تیزتر تلوار ہوجائے

گنہ کتنے ہی اور کیسے ہی ہیں پر رحمت عالم

شفاعت آپ فرمائیں تو بیڑا پار ہوجائے

 

بھرم رہ جائے محشر میں نہ پلہ ہلکا ہو اپنا

الٰہی میرے پلے پر مرا غم خوار ہوجائے

اِشارہ پائے تو ڈوبا ہوا سورج برآمد ہو

اُٹھے انگلی تو مہ دو بلکہ دو دو چار ہوجائے

ترا  تصدیق  کرنے  والا  ہے  اللّٰہ  کا  مومن

ترا منکر وہ جس کو حق سے ہی اِنکار ہوجائے

مرے ساقی مئے باقی پلادے ایک عالم کو

جو باقی اور پیاسا ہے ترا مے خوار ہوجائے

تمہارے حکم کا باندھا ہوا سورج پھرے اُلٹا

جو تم چاہو کہ شب دن ہو ابھی سرکار ہوجائے

قوافی اور مضامیں اچھے اچھے ہیں ابھی باقی

مگر بس بھی کرو نوریؔ نہ پڑھنا بار ہوجائے

 

مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے

مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے

جتنی کرتا ہے دوا دَرد سوا ہوتا ہے

کیوں عبث خوف سے دل اپنا ہوا ہوتا ہے

 



[1]      سامان بخشش کے نسخوں میں یہ مصرعہ یوں ہے : ’’ جو ڈوبا چاہتا ہے وہ تو ڈوبا ہوا بیڑا  ‘‘  فن عروض کے اعتبار سے یہ غیرموزون ہے جس کی وجہ یقینا کتابت کی غلطی ہے ۔ صحیح مصرعہ یوں ہو سکتا ہے ’’ جو ڈوبا چاہتا ہے وہ تو ہے ڈوبا ہوا بیڑا  ‘‘ لہٰذا ہم نے اسی طرح لکھا ہے ۔ المدینۃ العلمیۃ



Total Pages: 123

Go To