Book Name:Saman-e-Bakhsish

اُس دَر کی حضوری ہی عصیاں کی دوا ٹھہری

ہے زہرِ مَعاصی کا طیبہ ہی شفاخانہ

ہر پھول میں بو تیری ہر شمع میں ضو تیری

بلبل ہے ترا بلبل پروانہ ہے پروانہ

پیتے ہیں تیرے دَر کا کھاتے ہیں تیرے دَر کا

پانی ہے ترا پانی دانہ ہے ترا دانہ

ہر آرزو بر آئے سب حسرتیں پوری ہوں

وہ کان ذرا دَھر کر سن لیں مرا افسانہ

سنگِ دَرِ جاناں پر کرتا ہوں َجبیں سائی

سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ

 

گر پڑ کے یہاں پہنچا مر مر کے اسے پایا

چھوٹے نہ الٰہی اب سنگِ دَرِ جانانہ

سنگ دَرِ جاناں ہے ٹھوکر نہ لگے اس کو

لے ہوش پکڑ اب تو اے لغزشِ مستانہ

وہ کہتے نہ کہتے کچھ وہ کرتے نہ کرتے کچھ

اے کاش وہ سن لیتے مجھ سے مرا افسانہ

اے مفلسو نادارو جنت کے خریدارو

کچھ لائے ہو بیعانہ کیا دیتے ہو بیعانہ

کچھ نیک عمل بھی ہیں یا یونہی اَمل ہی ہے

دنیا کی بھی ہر شے کا تم لیتے ہو بیعانہ

کچھ اس سے نہیں مطلب ہے دوست کہ دشمن ہے

ان کو تو کرم کرنا اپنا ہو کہ بیگانہ

حب صنم دنیا سے پاک کر اپنا دل

اللّٰہ کے گھر کو بھی ظالم کیا بت خانہ

 

تھے پاؤں میں بے خود کے چھالے تو چلا سر سے

ہشیار ہے دیوانہ ہشیار ہے دیوانہ

 



Total Pages: 123

Go To