Book Name:Saman-e-Bakhsish

عنبرِستاں بنے محشر کا وہ میداں سارا

کھول دے ساقی اگر حوض کنارے گیسو

بادہ و ساقی لبِ جو تو ہیں پھر اَبر بھی ہو

ساقی کھل جائیں ترے حوض کنارے گیسو

یہ سرِ طور سے گرتے ہیں شرارے نوریؔ

رُوئے پُرنور پہ یا وارے ہیں تارے گیسو

 

کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو

کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو

خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو

نبیوں میں ہو تم ایسے نبی الانبیا تم ہو

حسینوں میں تم ایسے ہو کہ محبوبِ خدا تم ہو

تمہارا حسن ایسا ہے کہ محبوبِ خدا تم ہو

مہِ کامل کرے کسبِ ضیا وہ مہ لقا تم ہو

علو مرتبت پیارے تمہارا سب پہ روشن ہے

مکینِ لامکاں تم ہو شہِ عرشِ علا تم ہو

تمہاری حمد فرمائی خدا نے اپنے قرآں میں

محمد   اور   مُمَجَّد   مصطفیٰ    و   مجتبیٰ   تم    ہو

جو سب سے پچھلا ہو پھر اس کا پچھلا ہو نہیں سکتا

کہ وہ پچھلا نہیں اَگلا ہوا اس سے وَرا تم ہو

تمہیں سے فتح فرمائی تمہیں پر ختم فرمائی

رُسل کی ابتدا تم ہو نبی کی اِنتہا تم ہو

 

خدا نے ذات کا اپنی تمہیں مَظہَر بنایا ہے

جو حق کو دیکھنا چاہیں تو اُس کے آئینہ تم ہو

تمہیں باطن تمہیں ظاہر تمہیں اوَّل تمہیں آخر

نہاں بھی ہو عیاں بھی مبتدا و مُنْتَہا تم ہو

منوّر کردیا ہے آپ کے جلوؤں نے عالم کو

 



Total Pages: 123

Go To