Book Name:Saman-e-Bakhsish

کہ فرمائیں اِدھر آؤ نہ مایوس اَز جناں تم ہو

ستم کارو خطا کارو ِسیہ کارو جفا کارو

ہمارے دامنِ رحمت میں آجاؤ کہاں تم ہو

 

ستم کارو چلے آؤ چلے آؤ چلے آؤ

ہمارے ہو ہمارے ہو اگرچہ اَز بداں تم ہو

تمہارے ہوتے ساتے دَرد دُکھ کس سے کہوں پیارے

شفیعِ عاصیاں تم ہو وکیلِ  ُمجرِماں تم ہو

مسیحِ پاک کے قرباں مگر جانِ دل و اِیماں

ہمارے دَرد کے دَرماں طبیبِ اِنس و جاں تم ہو

دکھائے لاکھ آنکھیں مہرِ محشر کچھ نہیں پروا

خدا رکھے تمہیں تم ہو مرے اَمن و اَماں تم ہو

رِیاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت

جو کچھ کرنا ہو اب کرلو ابھی نوریؔ جواں تم ہو

فقط نسبت کا جیسا ہوں حقیقی نوری ہوجاؤں

مجھے جو دیکھے کہہ اُٹھے میاں نوری میاں تم ہو

ثنا منظور ہے ان کی نہیں یہ مُدّعا نوریؔ

سخن سنج و سخنور ہو سخن کے نکتہ داں تم ہو

 

کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو

کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو

دونوں عارِض ہیں ضُحٰی لیل  کے پارے گیسو

دَستِ قدرت نے ترے آپ سنوارے گیسو

حور سو ناز سے کیوں ان پہ نہ وارے گیسو

خاکِ طیبہ سے اگر کوئی نکھارے گیسو

سنبلِ خلد تو کیا حور بھی ہارے گیسو

سنبلِ طیبہ کو دیکھے جو سنوارے گیسو

سنبلِ خلد کے رِضواں بھی نثارے گیسو

 



Total Pages: 123

Go To