Book Name:Saman-e-Bakhsish

ترے نام پر سب کو وارا کروں میں

مجھے ہاتھ آئے اگر تاجِ شاہی

تری کفش پا پر نثارا کروں میں

ترا ذکر لب پر خدا دِل کے اندر

یونہی زندگانی گزارا کروں میں

دمِ واپسیں تک ترے گیت گاؤں

محمد محمد پکارا کروں میں

ترے دَر کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے

کہاں اپنا دامن پسارا کروں میں

 

مرا دِین و اِیماں فرشتے جو پوچھیں

تمہاری ہی جانب اِشارہ کروں میں

خدا ایسی قوت دے میرے قلم میں

کہ بدمذہبوں کو سُدھارا کروں میں

جو ہو قلب سونا تو یہ ہے سہاگا

تری یاد سے دِل نکھارا کروں میں

خدا ایک پر ہو تو اِک پر محمد

اگر قلب اپنا دو پارا کروں میں

خدا خیر سے لائے وہ دِن بھی نوریؔ

مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں

صبا ہی سے نوریؔ سلام اپنا کہہ دے

سوا اس کے کیا اور چارا کروں میں

 

شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو

شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو

طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلالو

ڈیوڑھی کا اپنی کتا بنالو

قدموں سے اپنے مجھ کو لگالو

 



Total Pages: 123

Go To