Book Name:Saman-e-Bakhsish

ہے آشکار نظر میں جہاں کی نیرنگی

جما ہے نقشۂ لیل و نہار آنکھوں میں

جما ہوا ہے تصور میں روضۂ والا

بسے ہوئے ہیں وہ لیل و نہار آنکھوں میں

نہار   چہرئہ    والا    تو   گیسو    ہیں    وَ اللَّیْل

بہم ہوئے ہیں یہ لیل و نہار آنکھوں میں

پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ

ہمیشہ اس کا رہے گا خمار آنکھوں میں

 

حبیب خدا کا نظارا کروں میں

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں

دل و جان اُن پر نثارا کروں میں

تری کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں

کہ پلکوں سے اس کو بُہارا کروں میں

تری رحمتیں عام ہیں پھر بھی پیارے

یہ صدماتِ فرقت سہارا کروں میں

مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کرلے

سوا تیرے سب سے کنارا کروں میں

میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں

ترے دَر سے اپنا گزارا کروں میں

سلاسل مصائب کے اَبرو سے کاٹو

کہاں تک مصائب گوارا کروں میں

 

خدارا اب آؤ کہ دَم ہے لبوں پر

دَمِ واپسیں تو نظارا کروں میں

ترے نام پر سر کو قربان کرکے

ترے سر سے صدقہ اتارا کروں میں

یہ اِک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں

 



Total Pages: 123

Go To