Book Name:Saman-e-Bakhsish

زبانِ قرآں پہ اُن کے ترانے آئے ہیں

دَبا نہیں وہ فلک سے بلند و بالا ہے

تہِ زمیں جسے سروَر دَبانے آئے ہیں

نصیب جاگ اُٹھا اس کا چین سے سویا

وہ جس کو قبر میں سروَر ُسلانے آئے ہیں

عجب کرم ہے کہ خود مجرموں کے حامی ہیں

گناہگاروں کی بخشش کرانے آئے ہیں

سبھی   رُسل   نے  کہا    اِذْھَبُوْا  اِلٰی  غَیْرِیْ

اَنَا   لَھَا   کا   یہ   مژدہ    سنانے   آئے    ہیں

 

زبانِ اَنبیا پر آج نفسی نفسی ہے

مگر حضور شفاعت کی ٹھانے آئے ہیں

کسی غریب کے پلے پہ وقتِ وَزْنِ عمل

بھرم کرم سے یہ اس کا بنانے آئے ہیں

وہ پرچہ جس میں لکھا تھا دُرود اس نے کبھی

یہ اس سے نیکیاں اس کی بڑھانے آئے ہیں

خدا   سے  کرتے  ہوئے  عرض   رَبِّ  سَلِّمْہٗ

صراط پر یہ کسی کو چلانے آئے ہیں

زباں جو دیکھے ہے سوکھی ہوئی تو بحرِ کرم

کسی کو حوض پہ شربت پلانے آئے ہیں

ہوا ہے حکم کسی کو کہ نار میں جائے

یہ سن کے دوڑ کے اس کو چھڑانے آئے ہیں

الٰہی دُور ہوں نجدی حجاز سے جلدی

حجازیوں کو یہ موذی ستانے آئے ہیں

نصیب تیرا چمک اُٹھا دیکھ تو نوریؔ

عرب کے چاند لحد کے سرہانے آئے ہیں

 

 



Total Pages: 123

Go To