Book Name:Saman-e-Bakhsish

کہ گرتے پڑتوں کو سینے لگانے آئے ہیں

سنو  گے ’’ لا ‘‘ نہ  زبانِ  کریم    سے   نوریؔ

یہ فیض و جود کے دریا بہانے آئے ہیں

 

ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں

ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں

ہم اپنی دِل کی لگی کو بجھانے آئے ہیں

دِلِ حزیں کو تسلی دِلانے آئے ہیں

غمِ فراق کو دِل سے مٹانے آئے ہیں

کریم ہیں وہ نگاہِ کرم سے دیکھیں گے

ہے داغ داغ دِل اپنا دِکھانے آئے ہیں

غم و اَلم یہ مٹادیں گے شاد کردیں گے

ہم اپنے غم کا قَضْیَہ چکانے آئے ہیں

حضور بہرِ خدا داستانِ غم سن لیں

غمِ فراق کا قصہ سنانے آئے ہیں

نگاہِ لطف و کرم ہوگی اور پھر ہوگی

کہ زَخمِ دِل پہ یہ مرہم لگانے آئے ہیں

فقیر آپ کے دَر کے ہیں ہم کہاں جائیں

تمہارے کوچہ میں دُھونی رَمانے آئے ہیں

مَدینہ ہم سے فقیر آکے لوٹ جائیں گے

درِ حضور پہ بستر جمانے آئے ہیں

خدا نے غیب دیا ہے انہیں ہے سب روشن

جو خطرے دل ہی میں چھپنے چھپانے آئے ہیں

کھلے گی میرے بھی دل کی گلی کہ جانِ جناں

چمن میں پھول کرم کے کھلانے آئے ہیں

کتابِ حضرتِ موسیٰ میں وَصف ہیں ان کے

کتابِ عیسیٰ میں ان کے فسانے آئے ہیں

انہیں کی نعت کے نغمے زَبور سے سن لو

 



Total Pages: 123

Go To