Book Name:Saman-e-Bakhsish

دِل ستانی کرنے والے ہیں ہزاروں دِلربا

دِل نوازی کرنے والا دِلربا ملتا نہیں

دِل گیا اچھا ہوا اس کا نہیں غم غم ہے یہ

لے گیا پہلو سے جو وہ دِلربا ملتا نہیں

محی سنت حامی ملت وہ مجدد دِین کا

پیکر رُشد و ہدیٰ احمد رضا ملتا نہیں

بے نوا کو بے صدا ملتا ہے اس سرکار سے

دودھ بھی بیٹے کو ماں سے بے صدا ملتا نہیں

کس طرح ہو حاضرِ دَر نوریؔٔ بے پر شہا

ناکے روکے دشمنوں نے راستہ ملتا نہیں

 

یہ کس شہنشہِ والا کی آمَد آمَد ہے

یہ کس شہنشہِ والا کی آمَد آمَد ہے

یہ کون سے شہِ بالا کی آمَد آمَد ہے

یہ آج تارے زمیں کی طرف ہیں کیوں مائل

یہ آسمان سے پیہم ہے نور کیوں نازِل

یہ آج کیا ہے زمانے نے رنگ بدلا ہے

یہ آج کیا ہے کہ عالم کا ڈَھنگ بدلا ہے

یہ آج کاہے کی شادی ہے عرش کیوں جھوما

لبِ زمین کو لبِ آسماں نے کیوں چوما

سماوا ڈوبا ہوا اور ساوا خشک ہوا

خزاں کا دَور گیا موسمِ بہار آیا

یہ آج کیا ہے کہ بت اَوندھے ہوگئے سارے

یہ آج کیوں ہیں شیاطیں بندھے ہوئے سارے

یہ اَنبیا و رُسل کس کے انتظار میں ہیں

یہ آج لات و ہبل کس سے اِنکسار میں ہیں

 

یہ آج  بُشریٰ لَکُمْ کی  صدا  کا  شور  ہے  کیوں

 



Total Pages: 123

Go To