Book Name:Saman-e-Bakhsish

راہزن ہیں کوبکو اور رہنما ملتا نہیں

اہلے گہلے ہیں مشائخ آج کل ہر ہر گلی

بے ہمہ و باہمہ مردِ خدا ملتا نہیں

ہیں صفائے ظاہری کے سازو ساماں خوب خوب

جس کا باطن صاف ہو وہ باصفا ملتا نہیں

بر زباں تسبیح و در دل گاؤخر کا دور ہے

ایسے ملتے ہیں بہت اس سے وَرا ملتا نہیں

 

بس یہی سرکار ہے اس سے ہمیشہ پائیں گے

دینے والے دیتے ہیں کچھ دن سدا ملتا نہیں

دور ساحل موج حائل پار بیڑا کیجئے

ناؤ ہے منجدھار میں اور ناخدا ملتا نہیں

وَصلِ مولیٰ چاہتے ہو تو وسیلہ ڈھونڈ لو

بے وسیلہ نجدیو ہرگز خدا ملتا نہیں

دامنِ  محبوب  چھوڑے  مانگے  خود  اللّٰہ سے

ایسے مردَک کو خدا سے مدعا ملتا نہیں

ذَرَّہ ذَرَّہ قطرہ قطرہ سے عیاں پھر بھی نہاں

ہو کے شہ رگ سے قریں تر ہے جدا ملتا نہیں

طائر جاں کی طرح دِل اُڑ کے جا بیٹھا کہاں

میرے پہلو میں ابھی تھا کیا ہوا ملتا نہیں

دَہریہ اُلجھا ہوا ہے دَہر کے پھندوں میں یوں

سارا اُلجھا سامنے ہے اور سرا ملتا نہیں

علم صانع ہوتا ہے مصنوع سے لیکن اسے

دیکھ کر مصنوع صانع کا پتا ملتا نہیں

 

نعمتِ کونین دیتے ہیں دوعالم کو یہی

مانگ دیکھو ان سے تم دیکھو تو کیا ملتا نہیں

سب سے پھر کر آئے ہیں اب شاہِ والا کے حضور

جز تمہارے شافعِ روزِ جزا ملتا نہیں

 



Total Pages: 123

Go To