Book Name:Saman-e-Bakhsish

تمہارے کرم کا ہے نوریؔ بھی پیاسا

ملے یم سے اس کو بھی نم غوثِ اعظم

 

دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں

دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں

ڈھونڈتے پھرتے ہیں مہر و مہ پتا ملتا نہیں

ہے رگِ گردن سے اَقْرَب نفس کے اندر ہے وہ

یوں گلے سے مل کے بھی ہے وہ جدا ملتا نہیں

آبِ بحرِ عشقِ جاناں سینہ میں ہے موجزن

کون کہتا ہے ہمیں آبِ بقا ملتا نہیں

آبِ تیغِ عشقِ پی کر زندۂ جاوید ہو

غم نہ کر جو چشمۂ آبِ بقا ملتا نہیں

ڈوب تو بحرِ فنا میں پھر بقا پائے گا تو

قبل اَز بحرِ فنا بحرِ بقا ملتا نہیں

دنیا ہے اور اپنا مطلب بے غرض مطلب کوئی

آشنا ملتا نہیں نا آشنا ملتا نہیں

ذَرَّہ ذَرَّہ خاک کا چمکا ہے جس کے نور سے

بے بصیرت ہے جسے وہ مہ لقا ملتا نہیں

 

ذَرَّہ ذَرَّہ سے عیاں ہے ایسا ظاہر ہو کے بھی

قطرے قطرے میں نہاں ہے برملا ملتا نہیں

جو خدا دیتا ہے ملتا ہے اسی سرکار سے

کچھ کسی کو حق سے اس دَر کے سوا ملتا نہیں

کیا    علاقہ   دشمنِ   محبوب  کو    اللّٰہ    سے

بے رضائے مصطفیٰ ہرگز خدا ملتا نہیں

کوئی مانگے یا نہ مانگے ملنے کا دَر ہے یہی

بے عطائے مصطفائی مدعا ملتا نہیں

رہنماؤں کی سی صورت راہ ماری کام ہے

 



Total Pages: 123

Go To