Book Name:Saman-e-Bakhsish

َ َبپایت اگر سر نہم غوثِ اعظم

مری سر بلندی یہیں سے ہے ظاہر

کہ ُشد زیرِ پا  َیت سَرَم غوثِ اعظم

لگا لو مرے سر کو قدموں سے اپنے

تمہیں سِرِّ حق کی قسم غوثِ اعظم

قدم کیوں لیا اَولیا نے سروں پر

تمہیں جانو اس کے حکم غوثِ اعظم

کیا فیصلہ حق و باطل میں تم نے

کیا حق نے تم کو حکم غوثِ اعظم

تمہاری مہک سے گلی کوچے مہکے

ہے بغداد رَشکِ اِرَم غوثِ اعظم

کرم سے کیا رَہ نما رَہزنوں کو

ادھر بھی نگاہِ کرم غوثِ اعظم

 

مرا نفسِ سرکش بھی رَہزن ہے میرا

یہ دیتا ہے دَم دَم بدم غوثِ اعظم

دِکھا دے تو اِنِّیْ عَزُوْمٌ کے جلوے

سنادے صدائے منم غوثِ اعظم

مرے دم کو اس کے دموں سے بچادے

کرم کر کرم کر کرم غوثِ اعظم

میں ہوں ناتواں سخت کمزور حد کا

ہیں زوروں چڑھے اس کے دم غوثِ اعظم

نہ پلہ ہو ہلکا ہمارا نہ ہم ہوں

نہ بگڑے ہمارا بھرم غوثِ اعظم

کہاں تک ہماری خطائیں گنیں گے

کریں عفو سب یک قلم غوثِ اعظم

ہماری خطاؤں سے دَفتر بھرے ہیں

کرم کر کہ ہوں کالعدم غوثِ اعظم

 



Total Pages: 123

Go To