Book Name:Saman-e-Bakhsish

ہوائے مخالف چلی غوثِ اعظم

تجھے تیرے جد سے انہیں تیرے رب سے

ہے علمِ خفی و جلی غوثِ اعظم

مرا حال تجھ پر ہے ظاہر کہ پتلی

تری لوح سے جا ملی غوثِ اعظم

خدا ہی کے جلوے نظر آئے جب بھی

تری چشم حق بیں کھلی غوثِ اعظم

فدا تم پہ ہو جائے نوریؔٔ مضطر

یہ ہے اس کی خواہش دِلی غوثِ اعظم

 

تجلیٔ نور قدم غوثِ اعظم

تجلیٔ نورِ ِقدَم غوثِ اعظم

ضیائے سراج الظلم غوثِ اعظم

ترا حل ہے تیرا حرم غوثِ اعظم

عرب تیرا تیرا عجم غوثِ اعظم

کرم آپ کا ہے اَعم غوثِ اعظم

عنایت تمہاری اَتم غوثِ اعظم

مخالف ہوں گو سو پدم غوثِ اعظم

ہمیں کچھ نہیں اس کا غم غوثِ اعظم

چلا ایسی تیغِ دودَم غوثِ اعظم

کہ اَعدا کے سر ہوں قلم غوثِ اعظم

وہ اک وار کا بھی نہ ہوگا تمہارے

کہاں ہے مخالف میں دم غوثِ اعظم

ترے ہوتے ہم پر ستم ڈھائیں دشمن

ستم ہے ستم ہے ستم غوثِ اعظم

 

کہاں تک سنیں ہم مخالف کے طعنے

کہاں تک سہیں ہم ستم  غوثِ اعظم

بڑھے حوصلے دشمنوں کے گھٹا دے

 



Total Pages: 123

Go To