Book Name:Saman-e-Bakhsish

خطائیں ہماری جو حد سے سوا ہیں

عطا تیری ان سے سوا غوثِ اعظم

خطا کاریاں گرچہ حد سے بھی اپنی

سوا ہیں سوا ہیں سوا غوثِ اعظم

ہماری خطا کو تمہاری عطا سے

بھلا کوئی نسبت بھی یا غوثِ اعظم

تو رحم و کرم کا ہے بے پایاں دَریا

یہ اِک فردِ عصیاں ہے کیا غوثِ اعظم

یہ اِک فردِ عصیاں ہے کیا تیرے آگے

اگر لاکھوں سے ہوں سوا غوثِ اعظم

 

ترا ایک ہی قطرہ دھو دے گا سارا

ہر اِک صفحۂ پُرخطا غوثِ اعظم

تو بیکس کا کس اور بے بس کا بس ہے

تواں ناتوانوں کی یاغوثِ اعظم

مری جان میں جان آئے جو آئے

مرا جانِ عالم مرا غوثِ اعظم

مری جان کیا جانِ ایماں ہو تازہ

کہ ہے محی دِینِ خدا غوثِ اعظم

مرا سر تری کفش پا پر تصدق

وہ پا کے تو قابل ہے یا غوثِ اعظم

جھلک رُوئے اَنور کی اپنی دکھا کر

تو نوریؔ کو نوری بنا غوثِ اعظم

 

کھلا میرے دل کی کلی غوث اعظم

کھلا میرے دِل کی کلی غوثِ اعظم

مٹا قلب کی بے کلی غوثِ اعظم

مرے چاند میں صدقے آجا اِدھر بھی

 



Total Pages: 123

Go To