Book Name:Saman-e-Bakhsish

میرے پاس موجود ہے ، میں نے بارہا حضرت کا کلام بھی حضرت کی موجودگی میں پڑھا ۔ غلطی واقع ہونے پر خود حضرت نے تصحیح بھی فرمائی ہے اس سے ملا کر تصحیح کردی جائے گی لہٰذا قاری صاحب نے بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے تصحیح فرمائی ہے ۔‘‘ ٭کمپیوٹر کمپوزنگ کا تقابل دہلی والے نسخہ سے کیا گیا ہے اور اَغلاط و اِختلاف کی صورت میں اکثر اسی کی طرف رجوع کیا گیا ہے نیز قاری امانت رسول قادری رضوی صاحب کے حواشی بھی شامل کر دئیے گئے ہیں ٭ ہر کلام کی ابتداء نئے صفحے سے کی گئی ہے ٭ کلام کے پہلے مصرعے کو ہیڈنگ کے طور پر لکھا گیا ہے ٭جابجا الفاظ پر اعراب کا اہتمام کیا گیا ہے جو کہ کافی وقت اور محنت طلب کام تھااس سلسلے میںاردو و فارسی کے قدیم الفاظ کے لیے مختلف لُغات کی طرف مراجعت کی گئی ہے ۔

       اس کام میں آپ کو جو خوبیاں نظر آئیں یقیناوہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عنایت سے ہیں اورعلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام بالخصوص امیر اہلسنّت مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے فیضان کا صدقہ ہیں اور باوجود احتیاط کے جو خامیاں رہ گئیں اُنہیں ہماری طرف سے نا دانستہ کوتاہی پر محمول کیا جائے ۔ قارئین خصوصاً علمائے کرام دَامَتْ فُیُوْضُہُم سے گزارش ہے اگر کوئی خامی آپ محسوس فرمائیں یا اپنی قیمتی آراء اور تجاویزدینا چاہیں توہمیں تحریری طور پر مطلع فرمائیے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی رضا کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِاسلامی کی مجلس’’المدینۃ العلمیۃ ‘‘ اور دیگر مجالس کو دن گیارہویں رات بارہویں ترقی عطافرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہِ وَسَلَّم

                       شعبۂ تخریج مجلس المدینۃ العلمیۃ

 

مفتیِ اعظم بڑی سرکار ہے

مفتیِ اعظم بڑی سرکار ہے                 جبکہ ادنیٰ سا گدا عطارؔ ہے

مفتیِ اعظم سے ہم کو پیار ہے              اِنْ   شَائَ  اللّٰہ   اپنا   بیڑا   پار   ہے

مفتیِ اعظم رضا کا لاڈلا                    اور محب سیِّدِ ابرار ہے

عالم و مفتی فقیہِ بے بَدَل                  خوب خوش اَخلاق و باکردار ہے

تاجدارِ اہلِ سنّت المدد                   بندۂ در بے کس و ناچار ہے

تختِ شاہی کیا کروں میرے لئے          تاجِ عزت آپ کی پَیزار ہے

اعلیٰ حضرت کا رہوں میں باوفا            اِستِقامت کی دعا درکار ہے

آستانے پر کھڑا ہے اِک گدا              طالبِ عشقِ شہِ اَبرار ہے

مسکرا کر اِک نظر گر دیکھ لو               میری شامِ غم ابھی گلزار ہے

میرے دل کو شاد فرما دیجئے                رنج و غم کی قلب پر یلغار ہے

سیِّدی احمد رضا کا واسِطہ                   تیرا منگتا طالبِ دیدار ہے

 



Total Pages: 123

Go To