Book Name:Saman-e-Bakhsish

آئیں جو خواب میں وہ ہو شبِ غم عید کا دن

جائیں تو عید کا دن ہو شبِ غم کی صورت

جائیں گلشن سے تو لٹ جائے بہارِ گلشن

دَشت میں آئیں تو ہو دَشت اِرَم کی صورت

بھیڑ کو خوف نہ ہو شیر سے جو تم چاہو

تم جو چاہو تو بنے شیر غنم کی صورت

کوہ ہوجائیں اگر چاہو تو سونا چاندی

سنگریزے بنیں دِینار و دِرَم کی صورت

صورتِ پاک وہ بے مثل ہے پائی تم نے

جس کی ثانی نہ عرب اور نہ عجم کی صورت

دَم نکل جائے مرا راہ میں ان کی نوریؔ

ان کے کوچہ میں رہوں نقش قدم کی صورت

 

منقبت

حضور پر نور سیدنا علاؤالملت والدین علی احمد صابر کلیری

رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

کیسے کاٹوں رَتیاں صابر

تارے گنت ہوں سیاں صابر

مورے کرجوا ہوک اُٹھت ہے

مو کو لگالے چھتیاں صابر

توری صورتیا پیاری پیاری

اچھی اچھی بتیاں صابر

چیری کو اپنے چرنوں لگالے

میں پروں تورے پیاں صابر

ڈولے نیا موری بھنور میں

بلما پکڑے بیاں صابر

 

چھتیاں لاگن کیسے کہوں میں

تم ہو اُونچے اٹریاں صابر

 



Total Pages: 123

Go To