Book Name:Saman-e-Bakhsish

تھے پھر مزید والد گرامی کے زیر سایہ علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ اس دوران مرکز اہلسنت دار العلوم منظر اسلام بریلی میں بھی حصولِ علم کا سلسلہ جاری رہا اور اسی درس گاہ سے ۱۳۲۸؁ ھ /   ۱۹۱۰؁ء میں بہ عمر اٹھارہ سال خدا داد ذہانت، ذوقِ مطالعہ، لگن و محنت، اساتذہ کرام کی شفقت و رافت، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کی توجہ کامل اور شیخِ مکرّم سید المشائخ        قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز کی عنایات کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کرکے تکمیل و فراغت پائی۔ فراغت کے بعد یہیں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اِسی سال (۱۳۲۸؁ ھ /        ۱۹۱۰  ؁ ء) رضاعت کے مسئلے پر پہلا فتویٰ تحریر فرمایا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواب ملاحظہ فرماکر انتہائی مسرت کا اظہار کیا اور خود مہر بنوا کر عطا فرمائی ۔ پھر  ۱۳۴۰؁ ھ تک بارہ سال والدِ گرامی کی زیر نگرانی فتویٰ نویسی کی اور تربیت بھی حاصل کرتے رہے ۔ امام اہلسنترَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو اپنے فرزند دِلبند کی فقاہت اور ثقاہت پر اس نوعیت کا اعتماد تھا کہ اپنے بعض فتاویٰ پر ان کے تائیدی دستخط کرواتے تھے ۔ والد گرامی کے بعد ۱۳۹۵ ؁ ھ تک مسند اِفتاء پر متمکن رہے اور اپنے خاندانی تفرد و اِختصاص کے تحت فتویٰ نویسی اور رُشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔اس کے بعد ضعف اور علالت کی وجہ سے فتویٰ نویسی کا کام نہ ہو سکا البتہ آخری لمحات تک مفتیانِ دین کی علمی مشکلات کو زبانی حل فرماتے رہے ۔اس طرح ستر سال کے طویل عرصہ تک فتویٰ نویسی کی ۔ آپ کے سیرت نگاروں نے لکھا کہ آپ کے فتاویٰ کا شمار لاکھوں میں ہے ۔فتویٰ نویسی کے ساتھ ساتھ درس و تدریس، وعظ و تقریر، تحریر و تالیف، اشاعت مسلک حق اور تبلیغ دین کا سلسلہ بھی جاری رہا۔آپ کی تالیفات کی تعداد پینتیس سے زائد بتائی جاتی ہے جن میں آپ کا شہرہ آفاق نعتیہ دیوان ’’سامانِ بخشش ‘‘ بھی شامل ہے ۔ آپ نے اپنے دور میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سازشوں، فتنہ سامانیوں اور ریشہ دَوانیوں کا بڑی جرأت کے ساتھ مقابلہ کیا اور مسلمانوں کے دین وایمان کے تحفظ اور ان کی فلاح وکامرانی کے لئے تمام طاغوتی قوتوں سے آخری سانس تک نبرد آزما رہے ، آپ کی نگاہِ کیمیاء اَثر نے لاکھوں گمراہوں کو راہِ حق پر گامزن کر دیا۔۱۴محرم الحرام ۱۴۰۲ھ / ۱۲نومبر۱۹۸۱ء میں وِصال پُرمَلال ہوا، آپ کا مزار مبارک بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پہلو میں ہے ۔

          اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو  اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔

                     (جہانِ مفتی ٔ اعظم، ص۶۴تا۶۵، ۱۰۳ تا ۱۳۰، رضا اکیڈمی بمبئی ہند)

 

پیش لفظ

            شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، تاجدارِ اہل سنت ، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رضوی قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ایک بلند پایا عالم دین اور برصغیر کے اپنے زمانہ میں سب سے بڑے فقیہ تھے ۔ آپ کا خاندان کئی صدیوں سے اسلامی علوم و فنون کا مرکز و محور رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو ورثے میں علم و فن کے وہ گوہرِ نایاب حاصل ہوئے جو دیگر حضرات کے یہاں شاذ و نادِر ہیں ، انہیں میں شعر و سخن کا ذوقِ بالا بھی شامل ہے ۔ آپ ایک قادِرُ الکلام شاعر تھے اور نعتیہ شاعری کے رُموز و دَقائق سے بخوبی واقف تھے آپ کا پورا دیوان سقم شرعی (یعنی شرعی طور پر نقص و عیب)سے پاک اور شریعت کا آئینہ دار ہے ، خود اپنی ایک رُباعی میں فرماتے ہیں:

 



Total Pages: 123

Go To