Book Name:Saman-e-Bakhsish

سر بھی سرکار نے قدموں پہ جھکانے نہ دیا

کوچۂ دِل کو بسا جاتی مہک سے تیری

کام اتنا بھی مجھے بادِ صبا نے نہ دیا

کبھی بیمارِ محبت بھی ہوئے ہیں اچھے

روز اَفزوں ہے مَرَض کام دوا نے نہ دیا

شربتِ دِید نے اَور آگ لگادی دل میں

تپشِ دِل کو بڑھایا ہے بجھانے نہ دیا

اب کہاں جائے گا نقشہ ترا میرے دل سے

تہ میں رکھا ہے اِسے دِل نے گمانے نہ دیا

 

دیس سے ان کے جو اُلفت ہے تو دل نے میرے

اس لئے دیس کا جنگلہ بھی تو گانے نہ دیا

دیس کی دُھن ہے وہی راگ اَلاپا اس نے

نفس نے ہائے خیال اس کا مٹانے نہ دیا

نفسِ بدکار نے دل پر یہ قیامت توڑی

عملِ نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا

نفسِ بدکیش ہے کس بات کا دِل پہ شاکی

کیا بُرا دِل نے کیا ظلم کمانے نہ دیا

میرے اَعمال کا بدلہ تو جہنم ہی تھا

میں تو جاتا مجھے سرکار نے جانے نہ دیا

میرے اَعمالِ سیہ نے کیا جینا دُوبھر

زہر کھاتا ترے اِرشاد نے کھانے نہ دیا

اَور چمکتی سی غزل کوئی پڑھو اے نوریؔ

رنگ اپنا ابھی جمنے شعرا نے نہ دیا

 

قفس جسم سے چھٹتے ہی یہ پرّاں ہوگا

قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پَرّاں ہوگا

مرغِ جاں ُگنبدِ خضرا پہ غزل خواں ہوگا

 



Total Pages: 123

Go To