Book Name:Saman-e-Bakhsish

کوئی مطلب بھی مرے دِل کا برانے نہ دیا

کیسی پُرنور ہے جنت کی فضا اے نوریؔ

پھر بھی طیبہ کا مزا اس کی فضا نے نہ دیا

 

 

دنیا کی محبت

      دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے اور کنارہ کشی ہر خیر و برکت کی بنیاد ہے ۔

(مکاشفۃ القلوب مترجم، ص۸۵، مکتبۃ المدینہ)

 

بخت خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا

بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا

چشم و دِل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا

آہ قسمت مجھے دنیا کے غموں نے روکا

ہائے تقدیر کہ طیبہ مجھے جانے نہ دیا

پاؤں تھک جاتے اگر پاؤں بناتا سر کو

سر کے بدل جاتا مگر ضعف نے جانے نہ دیا

اِتنا کمزور کیا ضعفِ قُویٰ نے مجھ کو

پاؤں تو پاؤں مجھے سر بھی اُٹھانے نہ دیا

سر تو سر جان سے جانے کی مجھے حسرت ہے

موت نے ہائے مجھے جان سے جانے نہ دیا

حالِ دِل کھول کے دِل آہ اَدا کر نہ سکا

اتنا موقع ہی مجھے میری قضا نے نہ دیا

ہائے اس دل کی لگی کو میں بجھاؤں کیونکر

فرطِ غم نے مجھے آنسو بھی گرانے نہ دیا

 

ہاتھ پکڑے ہوئے لے جاتے جو طیبہ مجھ کو

ساتھ اتنا بھی تو میرے رُفقا نے نہ دیا

سجدہ کرتا جو مجھے اس کی اجازت ہوتی

کیا کروں اِذْن مجھے اس کا خدا نے نہ دیا

حسرتِ سجدہ یونہی کچھ تو نکلتی لیکن

 



Total Pages: 123

Go To