Book Name:Saman-e-Bakhsish

موسیٰ ہوئے غش جس سے اور طور جلا جس سے

وہ جلوہ مرے دِل پر اے نورِ خدا کرنا

برباد نہ ہو مٹی اس خاک کے پتلے کی

اللّٰہ   مجھے   ان   کی    خاکِ  کف ِ    پا    کرنا

کیوں نقشِ کفِ پا کو دِل سے نہ لگائے وہ

ہے آئینۂ دِل کی نوریؔ کو جلا کرنا

 

کون ایسا ہے جسے خیر وَریٰ نے نہ دیا

کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا

کوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا

آپ کے دِین کا مُنکِر ہے نرا ناشکرا

کوئی کافر ہی کہے گا کہ خدا نے نہ دیا

جس  کو  تم  نے  دیا    اللّٰہ نے   اس  کو   بخشا

جس کو تم نے نہ دیا اس کو خدا نے نہ دیا

آپ کے رَب نے دِیا آپ کو فضلِ کُلّی

وہ دِیا تم کو جو اَوروں کو خدا نے نہ دیا

وہ فضائل تمہیں بخشے ہیں خدا نے جن کا

آپ کے غیر میں اِمکان بھی آنے نہ دیا

مثل ممکن ہی نہیں ہے ترا اے لاثانی

وہم نے بھی تو ترا مثل سمانے نہ دیا

 

آپ کے جوڑ کا آئے تو کہاں سے آئے

جب وجود اس کو شہِ اَرض و سما نے نہ دیا

آدَم و نوح براہیم کلیم و عیسیٰ

ان کو سب کو مِلا کیا رَبِّ علا نے نہ دیا

باوجود اس کے تمہیں جو ملا ان کو نہ ملا

آپ کا رُتبہ کسی کو بھی خدا نے نہ دیا

سب مطالب مرے برآئے کرم سے اُن کے

 



Total Pages: 123

Go To