Book Name:Saman-e-Bakhsish

سورج ہے وہیں قائم بھولا ہے ڈَھلا کرنا

لِلّٰہ  ہمیں   مولیٰ    دامن    کے    تلے    لے   لو

ہم کیسی بلا میں ہیں ہاں رَدِّ بلا کرنا

یہ ظلِ کرامت ہے ہم سایۂ رحمت ہے

یہ سایۂ رأفت ہے دامن ذرا وا کرنا

اے ظلِ خدا سایہ ہے آج کہاں پایا

ہم سائے کو آئے ہیں تم سایہ ذرا کرنا

لب تشنہ ہے گو ساقی تشنہ تری رُویت کا

رُویت جو نہ ہو تیری تو جام کا کیا کرنا

ہوں تشنہ مگر ساقی دِیدار کے شربت کا

اِک    جام    مجھے    پیارے    لِلّٰہ   عطا  کرنا

تشنہ میں نہیں اس کا تشنہ ہوں میں رُویت کا

ساقی مجھے کوثر کے ساغر کو ہے کیا کرنا

ہے پیاس سے حال اَبتر نکلی ہے زباں باہر

اِک جام مجھے سروَر کوثر کا عطا کرنا

جو دل سے تجھے چاہیں جو عیب ترے ڈَھانپیں

اے نفس تجھے ان سے کمبخت دَغا کرنا

 

وہ تیرا برا چاہیں ممکن ہی نہیں اُن سے

اَعدا کی بھلائی کی جن کو ہے دُعا کرنا

دُنیا بنے یا بگڑے دُنیا رہے یا جائے

تو دِین بنا پیارے دُنیا کا ہے کیا کرنا

کھایا پیا اور پہنا اَچھوں سے رَہا اَچھا

کچھ دِین کا بھی کرلے دنیا کا ہے کیا کرنا

قسمت میں غمِ دُنیا جنت کا قبالہ ہو

تقدیر میں لکھا ہو جنت کا مزا کرنا

دنیا میں جو روتے ہیں عقبیٰ میں وہ ہنستے ہیں

دنیا میں جو ہنستے ہیں ہے اُن کو ُکڑھا کرنا

 



Total Pages: 123

Go To