Book Name:Saman-e-Bakhsish

{1}شعبۂ کتب اعلیٰ حضرت{2}شعبۂ درسی کتب {3}شعبۂ اصلاحی کتب {4}شعبۂ ترا جم کتب{5}شعبۂ تفتیش کتب{6}شعبۂ تخریج ([1])

 

        ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘ کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلیٰ حضرت اِمامِ اَہلسنّت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمع رِسالت، مجدددین وملت، حامی سنت، ماحی بدعت، عالم شریعت، پیر طریقت، باعث خیر و برکت، حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافظ القاری شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گراں مایہ تصانیف کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوَسْع سہل اُسلوب میں پیش کرنا ہے ۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس علمی، تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اور مجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کتب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دلائیں۔

       اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بشمول ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عمل خیر کو زیورِ اِخلاص سے آراستہ فرما کر دونوں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے ۔ ہمیں زیر گنبد خضرا شہادت، جنت البقیع میں مدفن اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم           

                         

         رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

 

مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان

            مفتی اعظم ہند، شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، تاجدارِ اہل سنت ، مولانامفتی محمد مصطفیٰ رضا خان نوری رضوی قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی ولادت باسعاد ت بروز جمعۃ المبارک ۲۲ذوالحجہ     ۱۳۱۰؁ ھ /  ۷جولائی  ۱۸۹۳؁ء بوقت صبح صادق محلہ سودگران، رضا نگر بریلی شریف (یو.پی، ہند) میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والد گرامی نے دی اور حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَنَّانکو آپ کی تعلیم و نگہداشت کے لیے مقرر فرمایا۔ چھ ماہ کی عمر میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین نوری       قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز  نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمادیا۔آپ بچپن ہی سے ذہین و فطین تھے ، طبیعت میں سنجیدگی تھی۔ خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مَدینہ مولانا ضیاء الدین مَدَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں: جب اعلیٰ حضرت دارُ الافتاء میں تشریف فرما ہوتے تو کبھی کبھی شہزدۂ اَصغر ( یعنی چھوٹے شہزادے ) حاضر ہوتے ، حاضری کا انداز یہ تھا کہ آہستہ سے آتے اور دو زانو مؤدب سرکارِ رضا میں بیٹھ جاتے ، شریر بچوں کی طرح نہ ہنگامہ کرتے ، نہ کاندھوں پر دوڑتے اور نہ ہی سامان کو اٹھاتے پھینکتے ، اس وقت آپ کی عمر مبارک چار سال کے قریب تھی۔

آپ کی رسم تسمیہ خوانی چار سال چار ماہ اور چار دن کی عمر میں خود اعلیٰ حضرت

 

 امامِ اہلسنت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمائی۔ شوقِ علم دین کا یہ عالم تھا کہ جس وقت تسمیہ خوانی ہوئی نماز اور وضو کے مسائل سیکھ چکے



[1]      اب ان شعبوں کی تعداد 15ہو چکی ہے :{7 }  فیضانِ قراٰن {8} فیضانِ حدیث {9}فیضانِ صحابہ واہل بیت {10} فیضانِ صحابیات و صالحات {11}شعبہ امیراہلسنّت {12}فیضانِ مَدَنی مذاکرہ {13}فیضانِ اولیا و علما {14}بیاناتِ دعوتِ اسلامی {15}رسائلِ دعوتِ اسلامی۔ (مجلس المدینۃ العلمیۃ)



Total Pages: 123

Go To