Book Name:Saman-e-Bakhsish

گل نہ ہو گلشن میں تو گلشن ہے اِک بن خار کا

گل سے مطلب ہے جہاں ہو عندلیبِ زار کو

گل نہ ہو تو کیا کرے بلبل کہو گلزار کا

پھر سے ہوجائے نہ عالم میں کہیں طوفانِ نوح

لو اُبلتا ہے سمندر اپنی چشمِزار کا

دَھجیاں ہوجائے دامن فردِ عصیاں کا مری

ہاتھ آجائے جو گوشہ دامن دلدار کا

 

 

کوثر و تسنیم سے دل کی لگی بجھ جائے گی

میں تو پیاسا ہوں کسی کے شربتِ دِیدار کا

آئینہ خانہ میں اُن کے تجھ سے صدہا مہر ہیں

مہر کس منہ سے کیا ہے حوصلہ دِیدار کا

جلوہ گاہِ خاص کا عالم بتائے کوئی کیا

مہرِ عالم تاب ہے ذَرَّہ حریمِ یار کا 

 ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق روشن کئے

عرش و کرسی لامکاں پر بھی ہے جلوہ یار کا

زَرد رُو کیوں ہوگیا خورشیدِ تاباں سچ بتا

دیکھ پایا جلوہ کیا اس مَطْلعِ اَنوار کا

 ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق زیر نگیں

عرش و کرسی لامکاں کس کا مرے سرکار کا

یہ مہ و خور یہ ستارے چرخ کے فانوس ہیں

شمعِ روشن میں ہے جلوہ ترے رُخسار کا

مرقدِ نوریؔ پہ روشن ہے یہ لعل شب چراغ

یا چمکتا ہے ستارہ آپ کی پیزار کا

مقبول دُعا کرنا منظور ثنا کرنا

مقبول دُعا کرنا منظور ثنا کرنا

مِدحت کا صلہ دینا مقبول ثنا کرنا

 



Total Pages: 123

Go To