Book Name:Saman-e-Bakhsish

ہے نرالا سب سے عالم جلوہ گاہِ یار کا

 

کن کا حاکم کر دیا اللّٰہ نے سرکار کو

کن   کا    حاکم  کردیا    اللّٰہ  نے  سرکار  کو

کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا

کچھ عرب پر ہی نہیں موقوف اے شاہِ جہاں

لوہا مانا ایک عالم نے تری تلوار کا

کاٹ کر یہ خود سر میں گھس کے بھیجا چاٹ لے

کاٹ ایسا ہے تمہاری کاٹھ کی تلوار کا

اس کنارے ہم کھڑے ہیں پاٹ ایسا دَھار یہ

المدد اے ناخدا ہے قِصّہ اپنے پار کا

رَبِّ   سَلِّم   کی   دُعا    سے    پار   بیڑا   کیجئے

راہ ہے تلوار پر نیچے ہے دریا نار کا

تو ہے وہ شیریں دَہن کھاری کنویں شیریں ہوئے

ان کو کافی ہوگیا آبِ دَہن اِک بار کا

 

جس نے جو مانگا وہ پایا اور بے مانگے دیا

پاک منہ پر حرف آیا ہی نہیں اِنکار کا

دل میں گھر کرتا ہے اَعدا کے ترا شیریں سخن

ہے میرے شیریں سخن شہرہ تری ُگفتار کا

ظلمتِ مرقد کا اَندیشہ ہو کیوں نوریؔ مجھے

قلب میں ہے جب مرے جلوہ جمالِ یار کا

 

 

 

 

اَولاد کو کم عقلی سے بچانے کا نسخہ

       اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمانِ حفاظت نشان ہے : ’’ جو شخص دسترخوان سے کھانے کے گرے ہوئے ٹکڑوں کو اُٹھا کر کھائے وہ فراخی کی زندگی گزارتا ہے اور اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد کم عقلی سے محفوظ رہتی ہے ۔‘‘ 

 



Total Pages: 123

Go To