Book Name:Saman-e-Bakhsish

حمایت کا کسے اب آسرا ہے

بندھے گی آس اپنی بعدِ ہر یاس

اسی سے جو ہمارا آسرا ہے

اسی کے پاس سب پہنچیں گے آخر

وہ جس کا نامِ نامی مصطفیٰ ہے

 

شفاعت کا اسی کے سر ہے سہرا

وہی اس بزم کا دولہا بنا ہے

چلو اے عاصیو کیوں ُکڑھ رہے ہو

وہ محبوبِ خدا جلوہ نما ہے

مَلُول اے غم زَدو تم کس لیے ہو

وہ پیارا مصطفیٰ جب غمزُدا ہے

سنیں  گے  سننے   والے   اِذْھَبُوْا   کے

زبانِ     پاک    پر     اِنِّیْ    لَھَا    ہے

مظالم کرلیں جتنے ہوویں ظالم

نہ کر غم نوریؔ اپنا بھی خدا ہے ([1])

 

دلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے

دِلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے

ترا دردِ اُلفت ہی دل کی دَوا ہے

گلستانِ دنیا کا کیا ذِکر آقا

کہ طوطی ترا سدرہ پر بولتا ہے

مریضِ مَعاصی کو لے چل مَدینہ

مَدینہ ہی عصیاں کا دارُالشفا ہے

جو واصل ہے تم تک تو واصل ہے حق تک

جو تم سے پھرا ہے وہ حق سے پھرا ہے

 



[1]      سامان بخشش کے نسخوں میں یہ مصرعہ یوں ہے : ’’  نہ کر غم نوریؔ کہ اپنا بھی خدا ہے ‘‘   فن عروض کے اعتبار سے یہ غیرموزون ہے جس کی وجہ یقینا کتابت کی غلطی  ہے ۔ صحیح مصرعہ یوں ہو سکتا ہے :  ’’  نہ کر غم نوریؔ اپنا بھی خدا ہے ‘‘  لہٰذا ہم نے اسی طرح لکھا ہے ۔ المدینۃ العلمیۃ



Total Pages: 123

Go To