Book Name:Saman-e-Bakhsish

لبالب جو چہیتوں کو دیا ہے

ثنا لکھنی ہے محبوبِ خدا کی

خدا ہی جن کی عظمت جانتا ہے

میں تیرے فیض سے کچھ کہہ سکوں گا

میں کیا ہوں اور مرا یارا ہی کیا ہے

سنا اے بلبل باغِ مَدینہ

ترانہ اور دل یہ چاہتا ہے

سنا نوریؔ غزل اس کی ثنا میں

ثنا جس کی ثنائے کبریا ہے

حقیقت آپ کی حق جانتا ہے

حقیقت آپ کی حق جانتا ہے

وہ وہم و فہم سے آقا وَرا ہے

کچھ ایسا آپ کو حق نے کیا ہے

کہ خود وہ آپ کا طالب ہوا ہے

بلند اتنا تجھے حق نے کیا ہے

کہ عرشِ حق بھی تیرے زیر پا ہے

جو اَوروں کے علو کی اِنتہا ہے

وہ سرکاری علو کی اِبتدا ہے

خدا کی ذات تک تو ہی رَسا ہے

کسی کا بھی یہ عالی مرتبہ ہے

نہ ہے تم سا نہ کوئی ہوگا آگے

نہ اے آقا کوئی تم سا ہوا ہے

ملائک میں رُسل میں انبیا میں

کوئی عرشِ علا تک بھی گیا ہے

 

تَعَالَی    اللّٰہ     تیری      شانِ      عالی

جلالتِ شان کی کیا اِنتہا ہے

نکالی زَورَقِ خورشید ڈوبی

 



Total Pages: 123

Go To