Book Name:Saman-e-Bakhsish

یہاں محبوبِ رب ہے جلوہ آرا

وہاں بس اِک تجلی کی ضیا ہے

ہے یہ تو وصل سے سرسبز دل شاد

وہ نارِ ِہجر سے دل سوختا ہے

 

مہ و خور بھیک پاتے ہیں یہاں سے

ضیائے روضہ کا کہنا ہی کیا ہے

فضائے طیبہ کے قربان جاؤں

نسیمِ خلد سی جس کی ہوا ہے

خفیف و خوش مزا بے مثل پانی

کہیں دنیا میں ایسا کب پیا ہے

زمینِ پاک وہ جس کو خدا نے

کتاب  اللّٰہ میں اَرْضُ اللّٰہ  کہا  ہے

ہمیں تو طیبہ ہے جنت سے بڑھ کر

جہاں محبوبِ حق جلوہ نما ہے

قدم ہم جیسوں کے اس سرزمیں پر

کرم سرکار کا ہے اور کیا ہے

وطن کی ہر سہانی صبح نوریؔ

یہاں کی شامِ غربت پر فدا ہے

 

مئے محبوب سے سرشار کردے

مئے محبوب سے سرشار کردے

اُویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے

گما دے اپنی اُلفت میں کچھ ایسا

نہ پاؤں میں میں میں جو بے بقا ہے

پلادے مَے کہ غفلت دُور کردے

مجھے دنیا نے غافل کردیا ہے

عطا فرما دے ساقی جامِ نوری

 



Total Pages: 123

Go To