Book Name:Saman-e-Bakhsish

 

چین کی نیند آج سویا ہوں

موت آرام کی سلائی ہے

شامتوں نے تمہاری گھیرا ہے

موت تم کو یہاں پہ لائی ہے

ذَبح کر ڈالا تو نے او ظالم

نفس تو تو نرا قصائی ہے

طاعتِ حق کا نام سنتے ہی

تجھ کو کم بخت موت آئی ہے

معصیت زہر ہے مگر اوندھے

تو نے سمجھا اسے مٹھائی ہے

کیا بگاڑا تھا تیرا کیوں بگڑا

زہر کی پیالی کیوں پلائی ہے

اچھے جو کام کرنے ہیں کرلو

جان اپنی نہیں پرائی ہے

نوریؔ ہرگز نہیں ہے تو ناری

موتِ اسلام تو نے پائی ہے

واہ کیا بات آپ کی نوریؔ

کیا ہی اچھی غزل سنائی ہے

 

بخطِ نور اس در پر لکھا ہے

بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے

یہ بابِ رحمتِ رَبِّ عُلا ہے

سرِ خیرہ جو اب دَر پر جھکا ہے

ادا ہے عمر بھر کی جو قضا ہے

مقابل دَر کے یوں کعبہ بنا ہے

یہ قبلہ ہے تو ُتو قبلہ نما ہے

درِ والا پہ اِک میلا لگا ہے

عجب اس دَر کے ٹکڑوں میں مزا ہے

یہاں سے کب کوئی خالی پھرا ہے

 



Total Pages: 123

Go To