Book Name:Saman-e-Bakhsish

آگ سینے میں جس نے لگائی ہے

کاش وہ حشر کے دن کہیں مجھ سے

نارِ دوزخ سے تجھ کو رِہائی ہے

خوشبوئے زُلف سے کوچے مہکے ہیں

کیسے پھولوں میں شاہا بسائی ہے

پیارے خوشبو تمہارے پسینے کی

خلد کے پھولوں سے بھی سوائی ہے

 

بات وہ عطرِ فردوس میں بھی نہیں

تیرے ملبوس نے جو ُسنگھائی ہے

اس رضا پر ہو مولیٰ رضائے حق

راہ جس نے تمہاری جلائی ہے

ناخدا باخدا آؤ بہرِ خدا

میری کشتی تباہی میں آئی ہے

ہیں یہ صدمے تری ہی فرقت کے

روز اَفزوں یہ دردِ جدائی ہے

طیبہ جاؤں وہاں سے نہ واپس آؤں

میرے جی میں تو اب یہ سمائی ہے

مررہا ہوں تم آجاؤ جی اُٹھوں

شربتِ دِید میری دَوائی ہے

شوقِ دِیدارِ نوری میں اے نوریؔ

رُوح کھنچ کر اب آنکھوں میں آئی ہے

 

تیری آمد ہے موت آئی ہے

تیری آمد ہے موت آئی ہے

جانِ عیسیٰ تیری دُہائی ہے

کیوں وطن اپنا چھوڑ آئی ہے

 



Total Pages: 123

Go To