Book Name:Malfuzat Ameer e Ahlesunnat Qisst-9

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

تعزیت کا طریقہ[1]

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ( ۲۳ صَفحات ) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات  کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

      سرورِ ذِیشان ، مَحبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  جو مجھ پر ایک دِن میں 50 بار دُرُودِ پاک پڑھے قیامت کے دِن میں اُس سے مُصَافحہ کروں ( یعنی ہاتھ مِلاؤں ) گا ۔ ( [2] )       

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تعزیت کرنے کے مَدَنی پھول

سُوال :  تعزیت کے متعلق کچھ مَدَنی پھول اِرشاد فرما دیجیے ۔  

جواب : کسی مسلمان کی فوتگی پر اُس کے لَواحِقِین سے تعزىت کرنے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنی چاہیے تاکہ ثواب بھی ملے مثلاً تعزیت کرنا سُنَّت ہے لہٰذا اِس سُنَّت کو ادا کروں گا ۔ مسلمان کی دِلجوئی کر کے ثواب کماؤں گا ۔ ( [3] ) ٭ہمارے یہاں اب عام مسلمانوں سے تعزیت کرنے کا رُجحان کم ہوتا جا رہا ہے ۔  اگر تعزیت کریں گے بھی تو اپنے قریبی عزیزوں سے یا پھر کسی بڑی شخصیت کے اِنتقال پر اُس کے لَواحِقِین سے حالانکہ عام مسلمانوں سے بھی تعزیت کرنی چاہیے ۔ نیز گھر کے کسی ایک فَرد سے  تعزیت کرنے کے بجائے تمام اَفراد سے فَردًا فَردًا تعزیت کی جائے کہ سبھی کو صَدمَہ پہنچا ہے ۔ ([4] ) ٭تعزىت کرتے وقت اَلفاظ کے چُناؤ مىں اِحتىاط بہت ضَرورى ہے ورنہ جھوٹ بھی ہو سکتا ہے ۔  عموماً مُحتاط ذہن نہ ہونے کی بِناپر تعزیت کے اَلفاظ میں بہت مُبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے مثلاً مجھے آپ کے والِد کے اِنتقال کى خبر کھانا کھاتے ہوئے مِلی ، صَدمے کے سبب مىرے ہاتھ سے نَوالہ گِر گىا...مىں سونے کى تىارى کر رہا تھا لیکن جیسے ہی اِنتقال کا پتا چلا تو مىرى نىند ہی اُڑ گئى ...اگر واقعی میں اىسا ہوا تھا تو یہ اَلفاظ بولنے مىں حَرج نہىں اور اگر ایسا نہىں ہوا تو اب یہ جھو ٹ ہو جائے گا ۔  ٭یہ کہنا کہ مجھے آپ کے والِد کے اِنتقال کى خبر سے سخت دَھچکا لگا ، بہت صَدمَہ ہوا ، مىں بہت اُداس ہو گىا ، مجھے سخت اَفسوس ہے ، ىہ تمام جُملے بھى قابلِ غور ہىں کیونکہ اِن میں مُبالغہ پایا جا رہا ہے ۔ ( [5] )عموماً ایسی کیفیت عام لوگوں کی نہیں ہوتی ۔  ہاں! جو قریبی عزیز ہیں مثلاً اولاد بھائی وغیرہ تو ان کی اپنے عزیز کے اِنتقال پر یہ کیفیت ہو جاتی ہے لہٰذا عام اَفراد کو چاہیے کہ تعزیت میں مُبالغہ آرائی کے بغیر جملے کہیں مثلاً مجھے اَفسوس ہوا ، صَدمَہ ہوا وغیرہ لیکن یہ بھی اُسی وقت کہیں جب واقعی صَدمَہ ہوا ہو ، ورنہ تو بسااوقات صَدمے والی کیفیت بھی  نہیں ہوتی ۔ جبھی تو کِھل کِھلا کر ہنس رہے ہوتے  ہیں ، ڈَٹ کر کھا پی رہے ہوتے ہیں اور



[1]    یہ رِسالہ ۲۸ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرام ۱۴۳۹؁ھ بمطابق  08 ستمبر 2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی ) میں ہونے والے مَدَنی مذا کرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔  ( شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ )   

[2]    اَلْقُرْبَةُ اِلٰی ربِّ العلمین  لابن بشکوال ، صفة النبی من رواية…الخ ، ص۹۰ ، حدیث : ۹۰ دار الکتب العلمية بیروت

[3]    حدیثِ پاک میں ہے : جو اپنے مسلمان بھائی کی مصیبت ميں تعزیت کرے ، قیامت کے دِن اللہ پاک اُسے کَرامت کا جوڑا پہنائے گا ۔  ( ابنِ ماجه ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی  ثواب  من عزَّی مصابا ، ۲ / ۲۶۸ ، حديث : ۱۶۰۱ دار المعرفة بيروت )ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا :  جو کسی مصیبت زَدہ کی تعزیت کرے ، اُسے اُسی کے مِثل ثواب ملے گا ۔

( ترمذی ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء  فی  أجر  من عزَّی  مصابا ، ۲ / ۳۳۸ ، حديث :  ۱۰۷۵ دار الفكر بيروت )   

[4]    صَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : مستحب یہ ہے کہ مَیِّت کے تمام اَقارِب کو تعزیت کریں ، چھوٹے بڑے مَرد و عورت سب کو مگر عورت کو اُس کے مَحارم ہی تعزیت کریں ۔ ( بہارِ شریعت ، ۱ / ۸۵۲ ، حصہ : ۴ مکتبۃا لمدینہ باب المدینہ کراچی )    

[5]    تعزیت کرنے میں مُبالغہ آرائی سے گریز کرنے پر شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، تاجدارِ اہلسنَّت ، حضور مفتیٔ اعظم ہند مولانا مصطفے ٰ رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَنَّان کی حِکایت مُلاحظہ کیجیے : آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کا جو بھی جُملہ زبان سے نکلتا وہ جچا تُلا ہوتا ، جب بھی کسی کے بارے میں سُنتے کہ اس کا اِنتقال ہو گیا ہے تو فوراً دُعائے مَغفرت کے لیے ہاتھ اُٹھ جاتا ۔  اِس طرح کے بہت سے خُطُوط بھی حضرت کی خِدمت میں آتے  ۔ ایک مَرتبہ کسی کے تعزیتی خط کا جواب لکھنا تھا ، مفتی مجیب الاسلام صاحِب سے فرمایا کہ یہ جواب لکھ دیں ، میں دَستخط کر دیتا ہوں  ۔ چنانچہ مفتی صاحِب نے جواب لکھا کہ”آپ کا خط مِلا صاحب زادے کے اِنتقال کی خبر پڑھ کر بہت اَفسوس ہوا ۔ “ حضرت نے جواب سُننے کے بعد فوراً ٹوکا ، بہت اَفسوس تو نہیں ہوا ، ہاں اَفسوس ہوا ۔  ایک مَرتبہ پوچھا کیا ٹائم ہو رہا ہے ؟ مفتی مجیب الاسلام صاحب نے فرمایا کہ بارہ بج رہے ہیں ، ایک دو مِنَٹ کے بعد حضرت کی گھڑی مِل گئی دیکھا  تو ابھی تین مِنَٹ باقی تھے  ۔ ( اِحتیاط کا ذہن دیتے ہوئے )فرمایا : ابھی تو تین مِنَٹ باقی ہیں ، آپ نے پانچ مِنَٹ پہلے ہی بتا دیا کہ بارہ بج رہے ہیں ۔  ( جہانِ مفتی اعظم ، ص۳۱۹ رضا اکیڈمی ممبئی )



Total Pages: 8

Go To