Book Name:Malfuzat Ameer e Ahlesunnat Qisst 8

قرض خواہ کا اپنے مقروض کے تنگ دَست ہونے کے باوجود اسے مہلت نہ دینا نیز ان باتوں سے تنگ آکر اس شخص کا خود کشی کرلینا ہرگز جائز نہیں۔قرض خواہ اپنے مَقروض سے رَقم کا تقاضا کر سکتا ہے ، لیکن اُسے چاہیے کہ  وہ اس معاملے میں نَرمی کرے اور شریعت کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے کیونکہ مَقروض تنگ دَست ہو تو قرض  خواہ  پر اُسے مہلت دینا واجِب ہے ([1]) ۔ ([2]) حتّٰی کہ وہ خوش حال ہو کر اس کا قرض لوٹا سکے ۔ بعض قرض خواہ اپنے مَقروض سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ کسی اور سے قرض لے کر مجھے میری رَقم لوٹا دو اِس طرح کا  تقاضا کرنا بھی دُرُست نہیں ہے ۔ ہاں !  اگر مَقروض کے گھر والوں میں سے کوئی  اس کو قرض اتار نے کے لیے رَقم دے سکتا ہو اور انھیں بعد میں دُشواری بھی نہ ہو جیسے والد ، والدہ اور بھائی وغیرہ تو ان سے لینے کا مشورہ دینے میں حَرج نہیں۔

کیا میاں بیوی جنت میں یکجا ہوں گے ؟

سُوال : کیا میاں بیوی دونوں جنت میں ایک  ساتھ رہیں گے ؟

جواب : جی ہاں ! اگر میاں بیوی کا خاتمہ  اِیمان پر ہوا تو یہ دونوں جنت میں ساتھ رہیں گے ۔ ([3]) اگر ان میں سے کسی کا مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایمان سَلامت نہ رہا تو دوزخ اس کا ٹھکانا ہو گا اور جو جنت میں جائے گا اس کا کسی دوسرے  جنتی سے نکاح ہو جائے گا۔ جنت میں جانے والے کو اپنے دوسرے فریق کے بچھڑنے کا کوئی غم و صَدمہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ جنت غم اور صَدمے  کا مقام نہیں۔   

٭٭٭٭

زبان چلائیے جنَّت میں دَرَخْت لگائیے

     دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 504صفحات پر مشتمل کتاب ،

 ” غیبت کی تباہ کاریاں “صفحہ 129 پر ہے :  ”  (ایک بار) مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کہیں تشریف لے جارہے تھے حضرتِ سَیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کومُلاحظہ فرمایا کہ ایک پودا لگا رہے ہیں۔ اِستفسار فرمایا : کیا کررہے ہو؟عرض کی : درخت لگا رہا ہوں۔ فرمایا : میں بہترین درخت لگا نے کا طریقہ بتا دوں !  سُبْحٰنَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَر پڑھنے سے ہر کلمہ کے عوض (یعنی بدلے ) جنَّت میں ایک دَرخت لگ جاتا ہے ۔ (اِبن ماجه ، کتاب الادب ، باب فضل التسبیح ، ۴ / ۲۵۲ ، حدیث : ۳۸۰۷) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اِس حدیثِ پاک میں چارکلمے اِرشاد فرمائے گئے ہیں : (1) سُبْحٰنَ اللہ (2) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ (3) لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ (4) اَللہُ اَکْبَر یہ چاروں کلمات پڑھیں تو جنَّت میں چار درخت لگائے جائیں اور کم پڑھیں تو کم۔ مثلاً اگر سُبْحٰنَ اللہ کہا تو ایک درخت۔ ان کلمات کو پڑھنے کیلئے زَبان چلاتے جایئے اور جنَّت میں خوب خوب درخت لگواتے جایئے ۔  “

 



[1]    الزواجر ، کتاب البیع ، الکبیرة الثامنة والسبعون...الخ ، ۱ / ۴۹۰ دار المعرفة بیروت

[2]    حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ہر غریب مَقروض کو مہلت دینا واجِب ہے اور قرض مُعاف کرنا مستحب ہے ۔مہلت دینا ہر اس قرض میں واجِب ہے جو مالی کاروبار کا ہو جیسے تجارتی قرض۔ مگر دین ، مہر ، کفالہ ، حوالہ ، صلح کے روپیہ پر مہلت واجِب نہیں۔  (تفسیر نعیمی ، پ۳ ،  البقرة : ۲۸۰ ، ۳ / ۱۶۶-۱۶۷ ملتقطاً مرکز الاولیا  لاہور)

[3]    التذکرة باحوال الموتی وامور الاخرة ، باب اذا ابتکر الرجل امراة فی الدنیا کانت زوجته فی الاخرة ، ص ۴۶۲  دار السلام بیروت



Total Pages: 9

Go To