Book Name:Malfuzat Ameer e Ahlesunnat Qisst 8

دیتے  ہیں کہ  ” بھلا آپ کو کیسے بھول سکتے ہیں؟آپ کے لیے تو نام لے کر دُعا کی تھی۔ “ ظاہر ہے کہ اگر یہ سُوال نہ کرتا تو وہ جھوٹ نہ بولتا ۔پھر ایسے سُوالات میں خودسِتائی کی بُو بھی آتی ہے کہ یہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے ، جبھی تو نام لے کر دُعا اور سَلام کا مُطالبہ کر رہا ہے ۔ ایسے لوگ اپنی اَہمیت جَتانے کے لیے بسااوقات گلہ شِکوہ بھی کر ڈالتے ہیں مثلاً  ” بھائی !  آپ نے ہمارے لیے دُعا کرنا چھوڑ دی ہے جبھی تو آج کل بڑی پریشانیاں آرہی ہیں۔ “اگر ایسوں سے کہا جائے کہ میں سارے مسلمانوں کے لیے دُعا کرتا ہوں تو اس میں آپ بھی شامِل ہو ہی جاتے ہیں ۔تو اس پر فوراً کہیں گے :  ”  نہ بھائی  ! ہمارے لیے الگ سے نام لے کر دُعا کیا کرو۔ “ تو  ایسا مُطالبہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر ایک کا نام لے کر دُعا کرنا  ممکن نہیں ہوتا  مثلاً میرا  عوام سے واسطہ زیادہ ہے ، لوگ دُعا کرنے کا بھی کہتے رہتے ہیں اب میں ایک ایک کا نام یاد رکھ سکوں یہ ممکن نہیں ، اگر لکھ بھی  لوں تو اب ہزاروں ، لاکھوں نام پڑھوں کیسے ؟ لہٰذا میں دُعا میں ایسے جامع اَلفاظ لاتا ہوں جن میں ہر ایک خودبخود شامِل ہو جائے مثلاً  یَااللہ ! میرے تمام مُریدین ، تمام طالبین اور سارے دعوتِ اسلامی والوں اور والیوں کی بے حساب مَغفرت فرما ، یااللہ !  پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ساری اُمَّت کی بخشش فرما۔

کہتے رہتے ہیں دُعا کے واسطے بندے تیرے

کر دے پوری آرزو ہر بے کس و مجبور کی

تو اِن دُعائیہ اَلفاظ میں ہر ہر فَرد شامِل ہوگیا اور اس میں میرا کسی پر کوئی اِحسان بھی نہیں کیونکہ میں اپنے ثواب کے لیے ایسا کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لیے دُعا مانگنا ثواب کا  کام ہے ۔ ([1])  

حجاجِ کِرام سے بے جا سُوالات کرنا

سُوال : حج یا عمرہ کی سعادت حاصِل کر کے لوٹنے والوں سے لوگ اس قسم کے سُوالات کرتے ہیں کہ سفر میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی ؟ مدینہ شریف میں مَزہ آیا؟ تو اس قسم کے سُوالات کرنا کیسا؟

جواب : حج یا عمرہ کی سَعادت پاکر لوٹنے والوں سے اِس قسم کے سُوالات نہیں کرنے چاہیے ۔اِس قسم کے سُوالات کی بِنا پر کم علمی کی وجہ سے لوگ گناہ میں پڑ سکتے ہیں مثلاً یہ پوچھنا کہ سفر میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟اب اس کے جواب میں عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ نہیں بھائی ! بڑا آرام دہ سفر گزرا۔حالانکہ یہ جھوٹ ہوسکتا ہے اس لیے  کہ سفر میں سونا اور کھانا پینا سب مُتأثر ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ حدیثِ پاک میں فرمایا : سفر عذاب کا ٹکڑا ہے ، سونا اور کھانا پینا سب کو روک دیتا ہے ، لہٰذا جب کام پورا کرلو  جلدی گھرکو واپس ہو۔ ([2])

سفرِ حج میں تو اور زیادہ آزمائِشوں کا سامنا ہوتا ہے کہ میلوں میل پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ہجوم  اور اِزدِحام کے سبب مشکلات میں مزید اِضافہ ہوجاتا ہے لیکن اِس کے باوجود کہنا کہ بہت آرام دہ سفر گزرا تو یہ صَریح جھوٹ ہے ۔ یوں ہی مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً پہنچ کر جو بیمار ہوگیا۔ اَرکانِ حج کی اَدائیگی میں تھکاوٹ کے سبب مدینہ شریف میں اسے طبعاً مزہ نہیں آیا تو  اس پر کوئی گناہ نہیں لیکن سُوال پوچھنے والے کو جواب میں کہنا کہ بہت مزہ آیا تو یہ جھوٹ ہو گا۔ یوں ہی گھر آئے ہوئے مہمانوں سے بھی ایسے سُوالات نہ کیے جائیں جن کے جواب میں ان کے جھوٹ میں پڑنے کا اَندیشہ ہو مثلاً ہمارا کھانا کیسا لگا؟ ہمارى چائے اچھى لگى؟آپ کو گھر کىسا لگا ؟وغیرہ وغیرہ کیونکہ کھانا ، چائے اور گھر  اچھا نہ بھی لگا تب بھی وہ جھوٹ سے کام لیتے ہوئے یہی کہیں گے  کہ کھانے پینے میں  بہت مزا آیا اور گھر بھی اچھا لگا۔ بَہرحال ایسے سُوالات نہ کیے جائیں جن کے باعِث کسی کے جھوٹ میں مبتلا ہو کر گناہ میں پڑنے کا اَندیشہ ہو۔

کیا ہر سال حج کریں گے ؟

سُوال : کىا آپ آئندہ سال بھى حج کرىں گے ؟

جواب : مىں آئندہ سال تک زندہ رہوں گا اس کی میرے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے ۔ ہاں  ! اگر زندہ رہ گیا اور حالات وصحت نے بھی ساتھ دىا تو ہر سال حج کرنے کى نىت ہے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میں پہلے بھى ہر سال حج کی سعادت حاصل کرتا رہا ہوں۔ اب ایک بار  پھر کمر باندھى ہے لیکن عمر اور ضُعف بہت بڑھ گیا ہے ۔ بس اللہپاک میرے کہے کی لاج رکھ لے اور مجھے دوسروں کی محتاجی سے بچا لے ۔

رَوْضَۃُ الْجَنَّۃ میں جانے کے لیے دوڑنا  کیسا؟

سُوال : جب مسجدِ نبوى شریف میںرَوْضَۃُ الْجَنَّۃ کا دروازہ کھولا جاتا ہے تو اِنتظار میں کھڑے  لوگ وہاں جگہ پانے کے لیے دوڑتے ہیں تو ایسا کرنا کیسا؟

جواب : رَوْضَۃُ الْجَنَّۃ میں جگہ پانے کے لیے مسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام میں مَردوں یا عورتوں کا دوڑنا سخت بے اَدبی ہے اس لیے کہ  ” مسجد میں دوڑنا یا زور سے قدم رکھنا



[1]    حدیثِ پاک میں ہے : جو کوئی تمام مومن مَردوں اور عورَتوں کے لیے دُعائے مَغفرت کرتا ہے ، اللہپاک اُس کے لیے ہر مومن مَرد و عورت کے عِوَض ایک نیکی لکھ دیتا ہے ۔

 (مسندُ الشّامیین لِلطَّبَرانی ، ۳ / ۲۳۴ ، حدیث : ۲۱۵۵ مؤسسة الرسالة بيروت )

[2]    مسلم ، کتاب الإمارة ، باب السفر قطعة من العذاب...الخ ، ص ۸۱۹ ، حدیث : ۴۹۶۱ دار الکتاب العربی بیروت



Total Pages: 9

Go To