Book Name:Masjid Dars

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

مَسْجِد دَرْس

دُرُود شریف کی فضیلت

سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد  فرمایا : بے شک اللہ پاک نے ایک فرشتہ میری قَبْر پر مُقَرَّر  فرمایا ہے جسے تمام مَـخْلُوق کی آوازیں  سننے کی طَاقَت دی ہے ، پس قِیامَت تک جوکوئی مجھ پر دُرود پاک پڑھتا ہے تو وہ مجھے اِس کا اور اس کے باپ کا نام پیش کرتا ہے ، کہتا ہے : فُلاں  بن فُلاں  نے آپ پر دُرُودِ پاک پڑھا ہے  ۔ [1]

سُبْحٰنَ اللہ!دُرُود شریف پڑھنے والا کس قدر بختاوَر (خوش قسمت) ہے کہ اُس کا نام مع وَلدِیّت بارگاہِ رِسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں  پیش کیا جاتا ہے ، یہاں  یہ مدنی پھول بھی انتہائی اِیمان افروز ہے کہ قَبْر مُنَوَّر پر حاضِر فرشتے کو اس قَدْر زیادہ قوّتِ سَماعَت (یعنی سننے کی طَاقَت) دی گئی ہے کہ وہ دنیا کے کونے کونے میں ایک ہی وَقْت کے اندر دُرُود شریف پڑھنے والے لاکھوں  مسلمانوں  کی انتہائی دِھیمی آواز بھی سُن لیتا ہے  ۔ جب خادِمِ دربار کی قوّتِ سَماعَت کا یہ حال ہے تو سرکارِ والا تبار ، مکّے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اختیارات کی کیا شان ہو گی! وہ کیوں  نہ اپنے غلاموں  کو پہچانیں  گے اور کیوں  نہ اُن کی فریاد سُن کر بِاذنِ ﷲ (یعنی اللہ کی اِجازَت  سے ) اِن کی اِمدادیں  فرمائیں  گے ![2]

اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا         جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروروں درود[3]

میں  قرباں  اِس ادائے دَسْتْ گیری پر مِرے آقا            مدد کو آگئے جب بھی پُکارا یارسول الله

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سرکار کی پسند

ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے حُجرہ مبارکہ سے مَسْجِد  میں تشریف لائے تو صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے  دو۲ حلقے دیکھے ، ایک حلقہ والے قرآنِ  کریم کی تِلاوَت  کر رہے تھے اور اللہ پاک سے دُعا  مانگ رہے تھے ، جبکہ دوسرے حلقہ والے عِلْم سیکھنے (Learning) سکھانے (Teaching) میں مَشْغُول تھے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : یہ دونوں حلقے اگرچہ بھلائی پر ہیں ، مگر جو لوگ قرآنِ کریم کی تِلاوَت اور اللہ پاک سے  دعا میں مَصْرُوف ہیں ، اللہ پاک چاہے تو انہیں کچھ عَطا فرمائے  اور چاہے تو کچھ بھی عَطا نہ فرمائے ، البتہ!یہ لوگ عِلْم سیکھنے سکھانے میں مَشْغُول ہیں اور بیشک مجھے مُعَلِّم (یعنی سکھانے والا) بنا  کر بھیجا گیا ہے (لِہٰذا میں انہی کے پاس بیٹھوں گا) ۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہیں (عِلْم کے حلقے میں) تشریف فرماہوگئے  ۔ [4] 

درس اور مسجد کا باہمی تعلق

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَسْجِد کی ابتدا ہی سے دَرْس کا تَعَلّق مَسْجِد کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ اگر تاریخ پر نَظَر دوڑائیں تو نَماز اور دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ مَسَاجِد میں درس ایک اہم ترین جزو کے طور پر وابستہ چلا آ رہا ہے ۔ سیرتِ مصطفے ٰ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ بات اکثر و بیشتر ملے گی کہ جب بھی سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کچھ وَعْظ و نصیحت فرمانا مَقْصُود ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں مسجدِ نبوی شریف میں جمع فرما کر تَرْبِیَت فرمائی ۔   

مسجد درس اور صحابہ کا عمل

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَسْجِد میں دَرْس و بیان والی سنّت پر بخوبی عَمَل کیا ، انہوں نے اپنے مہربان و کریم آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جو کچھ سیکھا ، اُسے دوسروں کو سکھانے کے مُعَامَلے میں بھی ہمیشہ سرگرم (Busy) رہے  ۔ حضرت سَیِّدُنا



[1]      مسند بزار ، اول مسند عمار بن یاسر ، ابن حمیری عن عمار ، ۴ / ۲۵۴ ، حدیث : ۱۴۲۵

[2]     ضیائے درود وسلام ، ص۷

[3]     حدائق بخشش ، ص۲۶۴

[4]     ابن ماجه ،  المقدمة ، باب فضل العلما ء والحث... الخ ، ص ۵۰ ، حديث : ۲۲۹



Total Pages: 18

Go To