Book Name:Safar e Hajj Ki Ihtiyatain Malfuzat-e-Ameer Ahle Sunnat Qist 7

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

سفرِ حج کی اِحتیاطیں (قسط : 7) ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ (٣٢ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات  کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔  

دُرُود شریف کی فضیلت

نُور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فَرمانِ رُوح پَرور ہے : بے شک جِبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام) نے مجھے بِشارت دی کہ اللہ پاک فرماتا ہے : جو آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) پر دُرُودِ پاک پڑھتا ہے میں اُس پر رَحمت بھیجتا ہوں اور جو آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) پر سَلام پڑھتا ہے میں اُس پر سَلامتی بھیجتا ہوں ۔  ([2])  

بیکار گفتگو سے مِری جان چُھوٹ جائے  

                         ہر وقت کاش! لَب پہ دُرُود و سَلام ہو     (وسائلِ بخشش)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حج کب فرض ہوا؟

سُوال : حج کب فرض ہوا؟  کىا اِسلام سے پہلے بھی لوگ مکۂ مکرَّمہ میں بَیْتُ اللہ کے طواف کے لیے آتے تھے ؟  

جواب : حج ۹ہجرى مىں فرض ہوا ۔ ([3]) حج فرض ہونے سے قبل بھی کعبہ شرىف کا طواف کىا جاتا تھا یہاں تک کہ  کفّار بھى کعبہ شریف کا  طواف کرتے تھے اور ان كا  اَنداز یہ ہوتا تھا کہ وہ ننگے ہو کر تالىاں اور سىٹىاں بجاتے ہوئے طواف کرتے تھے ۔ ([4])  

اونٹوں  اور گھوڑوں پر سفر کرنا

سُوال : عرب شریف کا پُرانا دور ویڈیو  میں دِکھایا جاتا  ہے ، جس میں کچھ لوگ اونٹوں  اور گھوڑوں پر سوار ہو کر سفر کر رہے  ہوتے ہیں تو کچھ پیدل چل رہے ہوتے ہیں ، کیا آپ نے بھی پہلے  حج کے موقع پر اِس طرح  کا سفر کیا ہے یا ایسے مَناظِر دیکھے ہوں تو بیان فرما دیجیے ؟  

جواب : اونٹوں ، گھوڑوں اور  پیدل  سفر کے مَناظِر 1967 ؁ءسے بھی پہلے کے ہیں جبکہ حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی میری پہلی حاضِری 1980؁ء میں ہوئی تھی ۔  راہِ مدینہ میں ایسی سواریاں دیکھنا یاد نہیں پڑتا ، شاید اُس وقت اِن سواریوں پر قانونی پابندی لگ چکی تھی ۔  اب تو اونٹوں اور گھوڑوں پر سفر کرنے کا تصوُّر بھی نہیں ہے اور یہ قانون سمجھ میں بھی آتا ہے کیونکہ ٹریفک اتنی زیادہ ہو  گئی ہے کہ اس میں اگر کوئی اونٹ یا گھوڑا بِدک کر کسی گاڑی سے ٹکرا جائے تو ایکسیڈنٹ ہو جانے کا اَندیشہ ہے اور چونکہ یہ جانور ہیں اِس لیے ٹریفک کے قَوانین بھی ان پر لاگو نہیں ہوتے ۔  پھر یہ جانور لِید  اور گوبر وغیرہ بھی راستے میں کرتے ہیں ، انہیں آسانی کے ساتھ چلنے کے لیے ریتلی زمین چاہیے کہ جانور ریتلی زمین  پر تیز چل سکتے ہیں بالخصوص اونٹ کہ اسے تو ریگستان کا جہاز کہا جاتا ہے جبکہ دوسری گاڑیوں کے لیے ڈامر کی پکی سڑک ہونی چاہیے تو یوں ان سواریوں کا آپس میں میل مشکل ہے ۔      

 



[1]    یہ رِسالہ ۲۸ذُوالقعدۃُ الحرام ۱۴۳۹؁ھ بمطابق11 اَگست 2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذا کرے کا تحریری گلدستہ ہے ، (اِس رِسالے  میں۲۱ذُوالقعدۃُ الحرام ۱۴۳۹؁ھ بمطابق 04 اَگست 2018 کو ہونے والے مَدَنی مذاکرہ کا بھی کچھ حصّہ شامِل کیا گیا  ہے ۔ ) جسے المدینۃُ العلمیۃ کے شعبے ’’ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔  (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)      

[2]    مسند اِمام احمد ، حدیث عبدالرحمٰن بن عوف الزھری ، ۱ / ۴۰۷ ، حدیث : ۱۶۶۴ دار الفکر بیروت

[3]    درمختار مع  ردالمحتار ، کتاب الحج ، ۳ / ۵۱۷ دار المعرفة  بيروت

[4]    جیسا کہ پارہ 9 سورۃُ الانفال کی آیت نمبر 35 میں اِرشاد ہوتا ہے : ( وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًؕ-)  ترجمۂ کنز الایمان : ”اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی ۔ “اِس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ کبیر میں ہے : حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ اِبنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : ”قریش ننگے ہو کر خانۂ  کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے ۔ “ یہ فعل ان کا یا تو اس اِعتقادِ باطِل سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے  یا اس شَرارت سے کہ ان کے اس شور سے سَیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو نماز میں پریشانی ہو ۔  (تفسیرِ کبیر ، پ۹ ، الانفال ، تحت الآية : ۳۵ ، ۵ / ۴۸۱ ملتقطاً دار احیاء التراث العربی بیروت )



Total Pages: 11

Go To