Book Name:Zoq-e-Naat

کون کہتا ہے ہماری بیکسی اچھی نہیں

 

بندۂ سرکار ہو پھر کر خدا کی بندگی

ورنہ اے بندے خدا کی بندگی اچھی نہیں

 

رُوسیہ ہوں منہ اُجالا کر دے اے طیبہ کے چاند

اس اندھیرے پاکھ کی یہ تیرگی اچھی نہیں

 

خار ہائے دشتِ طیبہ چبھ گئے دل میں مِرے

عارِضِ گل کی بہارِ عارِضی اَچھی نہیں

 

صبحِ محشر چونک اے دل جلوۂ محبوب دیکھ

نور کا تڑکا ہے پیارے کاہلی اچھی نہیں

 

اُن کے دَر پر موت آ جائے تو جی جاؤں حسن ؔ

اُن کے دَر سے دُور رہ کر زندگی اچھی نہیں

دست مبارک کی برکت

        حضرت اُسید بن اَبی اُناس کنانی دُئلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سینے پر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا دست مبارک رکھااور چہرے پرپھیرا ۔ اس کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ جب وہ تاریک گھر میں داخل ہو تے تو گھر روشن ہو جاتا۔ (الخصائص الکبری للسیوطی، ۲ / ۱۴۲، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

نگاہ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

لئے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

 

ہمارے دَست تمنا کی لاج بھی رکھنا

تِرے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں

 

اِدھر بھی توسن اَقدس کے دو قدم جلوے

تمہاری راہ میں مشت غبار ہم بھی ہیں

 

کھلا دو غنچۂ دل صدقہ بادِ دامن کا

امیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں

 

تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے

پڑے ہوئے تو سرِ راہ گزار ہم بھی ہیں

 

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعل پاکِ حضور

تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

 

یہ کس شہنشہ والا کا صدقہ بٹتا ہے

کہ خسروؤں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

 



Total Pages: 158

Go To