Book Name:Zoq-e-Naat

میرے پیارے پہ میرے آقا پر

میری جانب سے لاکھ بار سلام

 

میری بگڑی بنانے والے پر

بھیج اے میرے کردگار سلام

 

اُس پناہِ گناہ گاراں پر

یہ سلام اور کرور بار سلام

 

اُس جوابِ سلام کے صدقے

تا قیامت ہوں بے شمار سلام

 

اُن کی محفل میں ساتھ لے جائیں

حسرتِ جان بے قرار سلام

 

پردہ میرا نہ فاش حشر میں ہو

اے مرے حق کے راز دار سلام

 

وہ سلامت رہا قیامت میں

پڑھ لئے جس نے دل سے چار سلام

 

عرض کرتا ہے یہ حسنؔ تیرا

تجھ پر اے خلد کی بہار سلام

باوضو مرنے والا شہید ہے

        مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا :  بیٹا اگر تم ہمیشہ باوضو رہنے کی استطاعت رکھو تو ایسا ہی کرو کیونکہ ملک الموت جس کی روح حالت وضو میں قبض کرتا ہے اس کے لیے شہادت لکھ دی جاتی ہے ۔(کنزالعمال، ۹ / ۱۳۰، الحدیث : ۲۶۰۶۰، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

تیرے در پہ ساجد ہیں شاہانِ  عالم

تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم

تو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم

 

یہ پیاری ادائیں یہ نیچی نگاہیں

فدا جانِ عالم ہو اے جانِ عالم

 

کسی اَور کو بھی یہ دولت ملی ہے

گدا کس کے دَر کے ہیں شاہانِ عالم

 

میں دَر دَر پھروں چھوڑ کر کیوں ترا  دَر

اُٹھائے بلا میری احسانِ عالم

 

میں سرکارِ عالی کے قربان جاؤں

 



Total Pages: 158

Go To