Book Name:Zoq-e-Naat

جو کچھ تری رضا ہے خدا کی وہی خوشی

جو کچھ تری خوشی ہے خدا کو وہی عزیز

 

گو ہم نمک حرام نکمے غلام ہیں

قربان پھر بھی رکھتی ہے رحمت تری عزیز

 

شانِ کرم کو اچھے برے سے غرض نہیں

اس کو سبھی پسند ہیں اس کو سبھی عزیز

 

منگتا کا ہاتھ اٹھا تو مدینہ ہی کی طرف

تیرا ہی دَر پسند تری ہی گلی عزیز

 

اس دَر کی خاک پر مجھے مرنا پسند ہے

تخت شہی پہ کس کو نہیں زندگی عزیز

 

کونین دے دیے ہیں تِرے اختیار میں

اللّٰہ  کو  بھی  کتنی  ہے   خاطر  تری  عزیز

 

محشر میں دو جہاں کو خدا کی خوشی کی چاہ

میرے حضور کی ہے خدا کو خوشی عزیز

 

قرآن کھا رہا ہے اسی خاک کی قسم

ہم کون ہیں خدا کو ہے تیری گلی عزیز

 

طیبہ کی خاک ہو کہ حیاتِ اَبد ملے

اے جاں بلب تجھے ہے اگر زندگی عزیز

 

سنگ ستم کے بعد دُعائے فلاح کی

بندے تو بندے ہیں تمہیں ہیں مدعی عزیز

 

دِل سے ذرا یہ کہہ دے کہ اُن کا غلام ہوں

ہر دشمن خدا ہو خدا کو ابھی عزیز

 

طیبہ کے ہوتے خلد بریں کیا کروں حسنؔ

مجھ کو یہی پسند ہے مجھ کو یہی عزیز

ہوں جو یاد رخ پرنور میں مرغان قفس

ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس

چمک اُٹھے چہ یوسف کی طرح شانِ قفس

 

 

 



Total Pages: 158

Go To