Book Name:Zoq-e-Naat

بے لقائے یار ان کو چین آ جاتا اگر

بار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر

 

کون کہتا ہے دلِ بے مُدَّعا ہے خوب چیز

میں تو کوڑی کو نہ لوں ان کی تمنا چھوڑ کر

 

مر ہی جاؤں میں اگر اس دَر سے جاؤں دو قدم

کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر

 

کس تمنا پر جئیں یارب اَسیرانِ قفس

آ چکی بادِ صبا باغِ مدینہ چھوڑ کر

 

بخشوانا مجھ سے عاصی کا رَوا ہو گا کسے

کس کے دامن میں چھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر

 

خلد کیسا نفس سرکش جاؤں گا طیبہ کو میں

بد چلن ہٹ کر کھڑا ہو مجھ سے رَستہ چھوڑ کر

 

ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار

کیا غرض کیوں جاؤں جنت کو مدینہ چھوڑ کر

 

حشر میں ایک ایک کا مونھ تکتے پھرتے ہیں عدو

آفتوں میں پھنس گئے اُن کا سہارا چھوڑ کر

 

مر کے جیتے ہیں جو اُن کے دَر پہ جاتے ہیں حسنؔ

جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مَدینہ چھوڑ کر

 

تمہارا رکوع اور خشوع مجھ سے پو شید ہ نہیں

حدیث صحیح میں ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایاکہ مجھ سے تمہارا رکوع اور خشوع پو شید ہ نہیں ۔ میں تم کواپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں ۔

)بخاری، ۱ / ۱۶۱، الحدیث : ۴۱۸، دارالکتب العلمیۃ بیروت(

جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز

جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز

کونین میں کسی کو نہ ہوگا کوئی عزیز

 

خاکِ   مَدینہ   پر   مجھے   اللّٰہ   موت   دے

وہ مردہ دل ہے جس کو نہ ہو زندگی عزیز

 

کیوں جائیں ہم کہیں کہ غنی تم نے کر دیا

اب تو یہ گھر پسند یہ در یہ گلی عزیز

 

 



Total Pages: 158

Go To