Book Name:Zoq-e-Naat

تصور اس لب جاں بخش کا کس شان سے آیا

دلوں کا چین ہو کر جان کا آرامِ جاں ہو کر

 

کریں تعظیم میری سنگِ اَسود کی طرح مومن

تمہارے در پہ رہ جاؤں جو سنگِ آستاں ہو کر

 

دکھا دے اے خدا گلزارِ طیبہ کا سماں مجھ کو

پھروں کب تک پریشاں بلبل بے آشیاں ہو کر

 

ہوئے یمن قدم سے فرش و عرش و لامکاں زندہ

خلاصہ یہ کہ سرکار آئے ہیں جانِ جہاں ہو کر

 

ترے دست عطا نے دولتیں دیں دل کئے ٹھنڈے

کہیں گوہر فشاں ہو کر کہیں آبِ رَواں ہو کر

 

فدا ہو جائے امت اس حمایت اس محبت پر

ہزاروں غم لئے ہیں ایک دل پر شادماں ہو کر

 

جو رکھتے ہیں سلاطیں شاہی ٔجاوید کی خواہش

نشاں قائم کریں ان کی گلی میں بے نشاں ہو کر

 

وہ جس رہ سے گزرتے ہیں بسی رہتی ہے مدت تک

نصیب اس گھر کے جس گھر میں وہ ٹھہریں میہماں ہو کر

 

حسنؔ کیوں پاؤں توڑے بیٹھے ہو طیبہ کا رستہ لو

زمینِ ہند سرگرداں رکھے گی آسماں ہو کر

مرحبا عزت و کمال حضور

مرحبا عزت و کمالِ حضور

ہے جلالِ خدا جلالِ حضور

 

ان کی قدموں کی یاد میں مریئے

کیجیے دل کو پائمالِ حضور

 

دشتِ اَیمن ہے سینۂ مومن

دل میں ہے جلوۂ خیالِ حضور

 

آفرنیش کو ناز ہے جس پر

ہے وہ اَندازِ بے مثال حضور

 

 

 



Total Pages: 158

Go To