Book Name:Zoq-e-Naat

آئے نہ کیوں اَثر کو مری آرزو پسند

شفاعت واجب ہو گئی

فرمانِ مصطفیٰ  : جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔

)دارقطنی، ۳ / ۳۳، الحدیث : ۲۶۹۵، مدینۃ الاولیاء ملتان(

ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منوّر کاغذ

ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ

عارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ

 

صفت خارِ مدینہ میں کروں گل کاری

دفتر گل کا عنادِل سے منگا کر کاغذ

 

عارضِ پاک کی تعریف ہو جس پرچہ میں

سو سیہ نامہ اُجالے وہ منور کاغذ

 

شامِ طیبہ کی تجلی کا کچھ اَحوال لکھوں

دے بیاضِ سحر اک ایسا منور کاغذ

 

یادِ محبوب میں کاغذ سے تو دل کم نہ رہے

کہ جدا نقش سے ہوتا نہیں دَم بھر کاغذ

 

وَرَقِ مہر اُسے خط غلامی لکھ دے

ہو جو وَصف رُخِ پُر نور سے اَنور کاغذ

 

تِرے بندے ہیں طلبگار تری رحمت کے

سن گناہوں کے نہ اے داورِ محشر کاغذ

 

لب جاں بخش کی تعریف اگر ہو تجھ میں

ہو مجھے تارِ نفس ہر خط مسطر کاغذ

 

مدحِ رخسار کے پھولوں میں بسا لوں جو حسنؔ

حشر میں ہو مِرے نامہ کا معطر کاغذ

اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر

اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر

چلیں گے بیٹھتے اُٹھتے غبارِ کارواں ہو کر

 

شب معراج وہ دم بھر میں پلٹے لا مکاں ہو کر

بہارِ ہشت جنت دیکھ کر  ہفت آسماں ہو کر

 

چمن کی سیر سے جلتا ہے جی طیبہ کی فرقت میں

مجھے گلزار کا سبزہ رُلاتا ہے دُھواں ہو کر

 



Total Pages: 158

Go To