Book Name:Zoq-e-Naat

شہ نشیں ٹوٹے ہوئے دل کو بنایا اُس نے

آہ اے دیدۂ مشتاق یہ لکھا تیرا

 

سات پردوں میں نظر اور نظر میں عالم

کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ معما تیرا

طور کا ڈھیر ہوا غش میں پڑے ہیں موسیٰ

کیوں نہ ہو یار کہ جلوہ ہے یہ جلوہ تیرا

 

چار اَضداد کی کس طرح گرہ باندھی ہے

ناخن عقل سے کھلتا نہیں عقدہ تیرا

 

دَشت اَیمن میں مجھے خاک نظر آئے گا

مجھ میں ہو کر نظر آتا نہیں جلوہ تیرا

 

ہر سَحر نغمۂ مرغانِ نواسنج کا شور

گونجتاہے ترے اَوصاف سے صحرا تیرا

 

وحشیٔ عشق سے کھلتا ہے تو اے پردۂ راز

کچھ نہ کچھ چاک گریباں سے ہے رشتہ تیرا

 

سچ ہے انسان کو کچھ کھو کے ملا کرتا ہے

آپ کو کھو کے تجھے پائے گا جویا تیرا

 

ہیں تِرے نام سے آبادی و صحرا آباد

شہر میں ذِکر ترا دَشت میں چرچا تیرا

 

برقِ دیدار ہی نے تو یہ قیامت توڑی

سب سے ہے اور کسی سے نہیں پردہ تیرا

 

آمدِ حشر سے اِک عید ہے مشتاقوں کو

اسی پردہ میں تو ہے جلوۂ زیبا تیرا

 

سارے عالم کو تو مشتاقِ تجلی پایا

پوچھنے جائیے اب کس سے ٹھکانا تیرا

 

طور پر جلوہ دکھایا ہے تمنائی کو

کون کہتا ہے کہ اَپنوں سے ہے پردہ تیرا

 

کام دیتی ہیں یہاں دیکھئے کس کی آنکھیں

دیکھنے کو تو ہے مشتاق زمانہ تیرا

 



Total Pages: 158

Go To