Book Name:Zoq-e-Naat

اندھیری رات جنگل میں اکیلا

مدد کا وقت ہے فریاد یاغوث

 

کھلا دو غنچۂ خاطر کہ تم ہو

بہارِ گلشنِ اِیجاد یاغوث

 

مِرے غم کی کہانی آپ سن لیں

کہوں میں کس سے یہ رُوداد یاغوث

 

رہوں آزاد قید عشق کب تک

کرو اِس قید سے آزاد یاغوث

 

کرو گے کب تک اچھا مجھ بُرے کو

مِرے حق میں ہے کیا ارشاد یاغوث

 

غمِ دنیا غمِ قبر و غمِ حشر

خدارا کر دے مجھ کو شاد یاغوث

 

حسنؔ منگتا ہے دیدے بھیک داتا

رہے یہ راج پاٹ آباد یاغوث

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج

کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج

 

آمد ہے یہ کس بادشہِ عرش مکاں کی

آتے ہیں فلک سے جو حسینانِ اِرَم آج

 

کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دِیدہ چمن میں

آتا ہے نظر نقشۂ گلزارِ اِرَم آج

 

نذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہ

اس بزم میں کس شاہ کے آتے ہیں قدم آج

 

بادَل سے جو رحمت کے سرِ شام گھرے ہیں

برسے گا مگر صبح کو بارانِ کرم آج

 

کس چاند کی پھیلی ہے ضیا کیا یہ سماں ہے

ہر بام پہ ہے جلوہ نما نورِ قدم آج

 

 

 



Total Pages: 158

Go To