Book Name:Zoq-e-Naat

کیوں کر نہ میرے کام بنیں غیب سے حسنؔ

بندہ بھی ہوں تو کیسے بڑے کارساز کا

 

بیر حدیبیہ اورلشکر اسلام

       یومِ حدیبیہ میں بیر حدیبیہ کا سارا پانی لشکر اسلام نے (جو چودہ سو تھے ) نکال لیا اور کنواں خالی ہوگیا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا اور وضو کر کے ایک کلی کوئیں میں ڈال دی اور فرمایا کہ ذرا ٹھہرو، اس کوئیں میں اس قدر پانی جمع ہوگیا کہ حدیبیہ میں قریباً بیس روز قیام رہا، تمام فوج اور ان کے اُونٹ اسی سے سیر اب ہوتے رہے ۔

(السنن الکبری للبیہقی، ۹ / ۳۳۷، الحدیث : ۱۸۸۱۵، دارالکتب العلمیۃ بیروت و بخاری، ۳ / ۶۹، الحدیث : ۴۱۵۱، دارالکتب العلمیۃ بیروت )

فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اعلٰی تیرا

فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلیٰ تیرا

وَصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا

 

طور پر ہی نہیں موقوف اُجالا تیرا

کون سے گھر میں نہیں جلوۂ زیبا تیرا

 

ہر جگہ ذِکر ہے اے واحد و یکتا تیرا

کون سی بزم میں روشن نہیں اِکّا تیرا

 

پھر نمایاں جو سر طور ہو جلوہ تیرا

آگ لینے کو چلے عاشق شیدا تیرا

 

خیرہ کرتا ہے نگاہوں کو اُجالا تیرا

کیجئے کونسی آنکھوں سے نظارہ تیرا

 

جلوۂ یار نرالا ہے یہ پردہ تیرا

کہ گلے مل کے بھی کھلتا نہیں ملنا تیرا

 

کیا خبر ہے کہ علی العرش کے معنی کیا ہیں

کہ ہے عاشق کی طرح عرش بھی جویا تیرا

 

اَرِنِی گوئے  سر  طور   سے   پوچھے   کوئی

کس طرح غش میں گراتا ہے تجلی تیرا

 

پار اُترتا ہے کوئی غرق کوئی ہوتا ہے

کہیں پایاب کہیں جوش میں دریا تیرا

 

باغ میں پھول ہوا شمع بنا محفل میں

جوش نیرنگ دَر آغوش ہے جلوہ تیرا

 

نئے انداز کی خلوت ہے یہ اے پردہ نشیں

آنکھیں مشتاق رہیں دِل میں ہو جلوہ تیرا

 



Total Pages: 158

Go To