Book Name:Zoq-e-Naat

طبع ہوکر منظر عام پر آچکا ہے اور اب شہنشاہ سخن کا کلام  ’’  ذوقِ نعت  ‘‘ آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہ۔

٭ ذوق نعت پرکام کے لیے ذیل میں درج تین نسخے سامنے رکھے گئے :    (1) حسنی پریس، بریلی شریف ہند(2)حزب الاحناف مرکز الاولیاء لاہور (3)مر کز اہل سنت برکاتِ رضا، گجرات، ہند(مطبوعہ۱۴۲۵ھ)٭ کمپیوٹر کمپوزنگ کا تقابل بریلی شریف والے نسخہ سے کیا گیا ہے اور اَغلاط و اِختلاف کی صورت میں اکثر اسی کی طرف رُجوع کیا گیا ہی٭ ہر کلام کی ابتداء نئے صفحے سے کی گئی ہے اور کلام کے پہلے مصرعے کو ہیڈنگ کے طور پرلکھا گیا ہے ٭جابجا الفاظ پر اعراب کا اہتمام کیا گیا ہے جو کہ کافی وقت اور محنت طلب کام تھااس سلسلے میں اردو و فارسی کے قدیم الفاظ کے لیے مختلف لغات کی طرف مراجعت کی گئی۔

           اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعاہے کہ اس کتاب کو پیش کرنے میں علمائے کرام دَامَت فُیُوْضُہُمْ نے جو محنت وکوشش کی اسے قبول فرماکر انہیں بہترین جزا دے اوران کے علم وعمل میں برکتیں عطافرمائے اور دعوت اسلامی کی مجلس  ’’  المدینۃ العلمیۃ  ‘‘ اور دیگر مجالس کو دن گیارھویں رات بارہویں ترقی عطا فرمائے ۔ اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔شعبۂ تخریج مجلس المدینۃ العلمیۃ  

ہے پاک رتبہ فکر سے اس بے نیاز کا

ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا

کچھ دَخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا

 

شہ رَگ سے کیوں وِصال ہے آنکھوں سے کیوں حجاب

کیا کام اس جگہ خردِ ہرزہ تاز کا

 

لب بند اور دل میں ہیں جلوے بھرے ہوئے

اللّٰہ   رے   جگر   ترے   آگاہِ   راز   کا

 

غش آگیا کلیم سے مشتاقِ دِید کو

جلوہ بھی بے نیاز ہے اُس بے نیاز کا

 

ہر شے سے ہیں عیاں مِرے صانع کی صنعتیں

عالم سب آئنوں میں ہے آئینہ ساز کا

 

اَفلاک و اَرض سب ترے فرماں پذیر ہیں

حاکم ہے تو جہاں کے نشیب و فراز کا

 

اس بے کسی میں دِل کو مِرے ٹیک لگ گئی

شہرہ سنا جو رحمت بے کس نواز کا

 

مانندِ شمع تیری طرف لو لگی رہے

دے لطف میری جان کو سوز و گداز کا

 

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جرم

دیتا ہوں واسطہ تجھے شاہِ حجاز کا

 

بندے پہ تیرے نفسِ لیں ہوگیا محیط

اللّٰہ کر   علاج    مری   حرص   و   آز   کا

 

 



Total Pages: 158

Go To