Book Name:Zoq-e-Naat

تِیرگی باطل کی چھائی تھی جہاں تاریک تھا

اُٹھ گیا پردہ ترا حق آشکارا ہوگیا

 

کیوں نہ دم دیں مرنے والے مرگِ عشقِ پاک پر

جان دی اور زندگانی کا سہارا ہوگیا

 

نام تیرا ذکر تیرا تو ترا پیارا خیال

ناتوانوں بے سہاروں کا سہارا ہوگیا

 

ذرۂ کوئے حبیب اللّٰہ  رے تیرے نصیب

پاؤں پڑ کر عرش کی آنکھوں کا تارا ہوگیا

 

ترے صانِع سے کوئی پوچھے ترا حسن و جمال

خود بنایا اور بنا کر خود ہی پیارا ہوگیا

 

ہم کمینوں کا انہیں آرام تھا اتنا پسند

غم خوشی سے دُکھ تہ دل سے گوارا ہوگیا

 

کیوں نہ ہو تم مالک مُلکِ خدا مِلکِ خدا

سب تمہارا ہے خدا ہی جب تمہارا ہوگیا

 

روزِ محشر کے اَلم کا دشمنوں کو خوف ہو

دُکھ ہمارا آپ کو کس دِن گوارا ہوگیا

 

جو اَزَل میں تھی وہی طلعت وہی تنویر ہے

آئینہ سے یہ ہوا جلوہ دوبارا ہوگیا

 

تو ہی نے تو مصر میں یوسف کو یوسف کردیا

تو ہی تو یعقوب کی آنکھوں کا تارا ہوگیا

 

ہم بھکاری کیا ہماری بھیک کس گنتی میں ہے

تیرے در سے بادشاہوں کا گزارا ہوگیا

 

اے حسن ؔقربان جاؤں اس جمالِ پاک پر

سینکڑوں پردوں میں رہ کر عالم آرا ہوگیا

منقبت خلیفۂ اوّل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا

ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا

 

 



Total Pages: 158

Go To