Book Name:Zoq-e-Naat

نہ کوئی دَوسرا میں تجھ سا ہے

نہ کوئی دوسرا ہوا تیرا

 

سوکھے گھاٹوں مرا اُتار ہو کیوں

کہ ہے دریا چڑھا ہوا تیرا

 

سوکھے دھانوں کی بھی خبر لے لے

کہ ہے بادَل گھرا ہوا تیرا

 

مجھ سے کیا لے سکے عدو اِیماں

اور وہ بھی دِیا ہوا تیرا

 

لے خبر ہم تباہ کاروں کی

قافلہ ہے لٹا ہوا تیرا

 

مجھے وہ دَرد دے خدا کہ رہے

ہاتھ دِل پر دَھرا ہوا تیرا

 

تیرے سر کو ترا خدا جانے

تاجِ سر نقش پا ہوا تیرا

 

بگڑی باتوں کی فکر کر نہ حسنؔ

کام سب ہے بنا ہوا تیرا

 

معطی مطلب تمہارا ہر اشارہ ہوگیا

مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا

جب اِشارہ ہوگیا مطلب ہمارا ہوگیا

 

ڈوبتوں کا یانبی کہتے ہی بیڑا پار تھا

غم کنارے ہوگئے پیدا کنارا ہوگیا

 

تیری طلعت سے زمیں کے ذرّے مَہ پارے بنے

تیری ہیبت سے فلک کا مَہ دو پارا ہوگیا

 

اللّٰہ اللّٰہ محو حسن رُوئے جاناں کے نصیب

بند کرلیں جس گھڑی آنکھیں نظارہ ہوگیا

 

یوں تو سب پیدا ہوئے ہیں آپ ہی کے واسطے

قسمت اُس کی ہے جسے کہہ دو ہمارا ہوگیا

 

 



Total Pages: 158

Go To