Book Name:Zoq-e-Naat

شکستہ پا ہوں مِرے حال کی خبر کر دو

کوئی کسی سے یہ رو رو کے کہہ رہا ہوگا

 

خدا کے واسطے جلد ان سے عرض حال کرو

کسے خبر ہے کہ دَم بھر میں ہائے کیا ہو گا

 

پکڑ کے ہاتھ کوئی حالِ دل سنائے گا

تو رو کے قدموں سے کوئی لپٹ گیا ہوگا

 

زبان سوکھی دکھا کر کوئی لب کوثر

جنابِ پاک کے قدموں پہ گر گیا ہوگا

 

نشانِ خسروِ دِیں دُور کے غلاموں کو

لوائے حمد کا پرچم بتا رہا ہوگا

 

کوئی قریب ترازو کوئی لبِ کوثر

کوئی صراط پر ان کو پکارتا ہوگا

 

یہ بے قرار کرے گی صدا غریبوں کی

مقدس آنکھوں سے تار اَشک کا بندھا ہو گا

 

وہ پاک دل کہ نہیں جس کو اپنا اَندیشہ

ہجومِ فکر و تردُّد میں گھر گیا ہوگا

 

ہزار جان فدا نرم نرم پاؤں سے

پکار سن کے اَسیروں کی دوڑتا ہوگا

 

عزیز بچہ کو ماں جس طرح تلاش کرے

خدا گواہ یہی حال آپ کا ہوگا

 

خدائی بھر انہیں ہاتھوں کو دیکھتی ہوگی

زمانہ بھر انہیں قدموں پہ لوٹتا ہوگا

 

بنی ہے دَم پہ دُہائی ہے تاج والے کی

یہ غل یہ شور یہ ہنگامہ جا بجا ہوگا

 

مقام فاصلوں پر کام مختلف اتنے

وہ دن ظہورِ کمالِ حضور کا ہوگا

 

 

 



Total Pages: 158

Go To