Book Name:Zoq-e-Naat

اس چہرۂ پر نور کی وہ بھیک تھی جس نے

مہر و مہ و انجم کو پُراَنوار بنایا

 

ان ہاتھوں کا جلوہ تھا یہ اے حضرتِ موسیٰ

جس نے ید بیضا کو ضیا بار بنایا

 

ان کے لب رنگیں کی نچھاور تھی وہ جس نے

پتھر میں حسنؔ لعل پُراَنوار بنایا

 

تمھارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا

 

گناہگار پہ جب لطف آپ کا ہوگا

کیا بغیر کیا بے کیا کیا ہوگا

 

خدا کا لطف ہوا ہوگا دست گیر ضرور

جو گرتے گرتے ترا نام لے لیا ہوگا

 

دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی

کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہوگا

 

خدائے پاک کی چاہیں گے اَگلے پچھلے خوشی

خدائے پاک خوشی اُن کی چاہتا ہوگا

 

کسی کے پاؤں کی بیڑی یہ کاٹتے ہونگے

کوئی اَسیر غم ان کو پکارتا ہوگا

 

کسی طرف سے صدا آئے گی حضور آؤ

نہیں تو دَم میں غریبوں کا فیصلہ ہوگا

 

کسی کے پلہ پہ یہ ہوں گے وقت وَزنِ عمل

کوئی اُمید سے مونھ ان کا تک رہا ہوگا

 

کوئی   کہے   گا   دُہائی   ہے    یَا رَسُوْلَ  اللّٰہ

تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہوگا

 

کسی کو لے کے چلیں گے فرشتے سوئے جحیم

وہ اُن کا راستہ پھر پھر کے دیکھتا ہوگا

 

 



Total Pages: 158

Go To