Book Name:Zoq-e-Naat

بادشا ہو یا گدا ہو کوئی ہو

سب کو اس سرکار سے صدقہ ملا

سب نے اس دَر سے مرادیں پائی ہیں

اور اسی دَر سے ملیں گی دائما

جود دریا دل کے صدقہ سے بڑھے

بڑھتے بادل کو گھٹا کہنا خطا

مَن  رَّٰانِیْ والے   رُخ  نے  بھیک  دی

کیوں نہ گلشن کی صفت ہو دِلکشا

جلوۂ پائے منور کے نثار

مہر و مہ کو کتنا اُونچا کردیا

اپنے بندوں کو خدائے پاک نے

اس کے صدقے میں دیا جو کچھ دیا

مصطفیٰ کا فضل ہے مسرور ہیں

نعمتِ تازہ سے عبدالمصطفیٰ

عالم دیں مقتدائے اہل حق

سنیوں کے پیشوا احمد رضا

فضل حق سے ہیں فقیر قادری

اس فقیری نے اُنہیں سب کچھ دیا

لخت دِل حامد میاں کو شکر ہے

حق نے بیٹا بخشا جیتا جاگتا

میں  دعا  کرتا   ہوں  اب   اللّٰہ  سے

اور دعا بھی وہ جو ہے دل کی دعا

واسطہ دیتا ہوں میں تیرا تجھے

اے خدا اَز فضل تو حاجت روا

عافیت سے قبلہ و کعبہ رہیں

ہم غلاموں کے سروں پر دائما

دولت کونین سے ہوں بہرہ وَر

اَخِّ اعظم مصطفے حامد رضا

نعمتِ تازہ کو دے وہ نعمتیں

کیں جو تو نے خاص بندوں کو عطا

دوست اُن سب کے رہیں آباد و شاد

دشمن بدخواہ غم میں مبتلا

آفریں طبع رواں کو اے حسنؔ

قطعہ لکھنا تھا قصیدہ ہوگیا

سن ولادت کے دعائیہ لکھو

علم و عمر اِقبال و طالع دے خدا

۲۵ ۱۳ھ

 

 



Total Pages: 158

Go To