Book Name:Zoq-e-Naat

اب تیری طرف شکستہ حالوں کے رفیق

ٹوٹی ہوئی آس نے لگائی ہے لو

دیگر

برسائے وہ آزادہ رَوِی نے جھالے

ہر راہ میں بہہ رہے ہیں ندی نالے

اسلام کے بیڑے کو سہارا دینا

اے ڈوبتوں کے پار لگانے والے

دیگر

سن اَحقر افرادِ زمن کی فریاد

سن بندۂ پابندِ محن کی فریاد

یارب تجھے واسطہ خداوندی کا

رہ جائے نہ بے اثر حسن کی فریاد

دیگر

جو لوگ خدا کی ہیں عبادت کرتے

کیوں اَہلِ خطا کی ہیں حقارت کرتے

بندے جو گنہگار ہیں وہ کس کے ہیں

کچھ دیر اُسے ہوتی ہے رحمت کرتے

دیگر

دنیا فانی ہے اہل دنیا فانی

شہر و بازار و کوہ و صحرا فانی

دل شاد کریں کس کے نظارہ سے حسنؔ

آنکھیں فانی ہیں یہ تماشا فانی

دیگر

اس گھر میں نہ پابند نہ آزاد رہے

غمگین رہے کوئی نہ دِل شاد رہے

تعمیر مکاں کس کے لیے ہوتا ہے

کوئی نہ یہاں رہے گا یہ یاد رہے

تواریخ از تصنیف مصنف

تاریخ مثنوی شفاعت و نجات مصنفہ مولیٰنا مولوی محمد محسن

صاحب کاکوروی وکیل مین پوری

حسنؔ اپنے محسن کی ہو کچھ ثنا

جو احسان ُحسنِ طبیعت کا ہو

 

شفاعت کا لکھا ہے اَحوال خوب

بیاں کیونکر اُس کی فصاحت کا ہو

 

دُعائیہ تاریخ میں نے کہی

یہ اچھا ذریعہ شفاعت کا ہو

۳ ۹ ۸ ۱ ء

 



Total Pages: 158

Go To